🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3269. -- باب: أحد الأولياء إذا عدا على رجل فقتله بأنه قاتل أبيه
-- باب: جب ورثاء میں سے کوئی کسی شخص پر زیادتی کرتے ہوئے اسے یہ سمجھ کر قتل کر دے کہ وہ اس کے باپ کا قاتل ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16083
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى أَبُو غَسَّانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَثَبَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَلَى الْهُرْمُزَانِ فَقَتَلَهُ، فَقِيلَ لِعُمَرَ: إِنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَتَلَ الْهُرْمُزَانَ، قَالَ: وَلِمَ قَتَلَهُ؟ قَالَ: إِنَّهُ قَتَلَ أَبِي، قِيلَ: وَكَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ: رَأَيْتُهُ قَبْلَ ذَلِكَ مُسْتَخْلِيًا بِأَبِي لُؤْلُؤَةَ، وَهُوَ أَمَرَهُ بِقَتْلِ أَبِي قَالَ عُمَرُ: مَا أَدْرِي مَا هَذَا؟ انْظُرُوا إِذَا أَنَا مُتُّ فَاسْأَلُوا عُبَيْدَ اللهِ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْهُرْمُزَانِ، هُوَ قَتَلَنِي، فَإِنْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ فَدَمُهُ بِدَمِي، وَإِنْ لَمْ يُقِمِ الْبَيِّنَةَ فَأَقِيدُوا عُبَيْدَ اللهِ مِنَ الْهُرْمُزَانِ فَلَمَّا وَلِيَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قِيلَ لَهُ: أَلَا تُمْضِي وَصِيَّةَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي عُبَيْدِ اللهِ؟ قَالَ: وَمَنْ وَلِيُّ الْهُرْمُزَانِ؟ قَالُوا: أَنْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ: فَقَدْ عَفَوْتُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو سیدنا عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ہرمزان کو قتل کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جب یہ بات بتائی گئی تو پوچھا: تم نے اس کو کیوں قتل کیا؟ انہوں نے عرض کیا: اس نے میرے باپ کو قتل کیا ہے۔ پوچھا: وہ کیسے؟ کہنے لگے: میں نے اسے ابو لؤلؤ سے مشورہ کرتے دیکھا تھا، اسی نے میرے والد کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے نہیں پتہ کہ کیا معاملہ ہے۔ دیکھو اگر میں شہید ہو جاؤں تو عبیداللہ سے اس بارے میں پوچھنا، اگر وہ کوئی گواہ پیش کر دیں تو ٹھیک ہے، ورنہ اس سے ہرمزان کا قصاص لے کر دینا۔ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ والی بنے تو انہیں کہا گیا کہ عبیداللہ کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وصیت آپ قائم نہیں کریں گے؟ پوچھا: ہرمزان کا ولی کون ہے؟ کہنے لگے: آپ ہیں اے امیر المؤمنین! تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو معاف کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16083]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16083 in Urdu