السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3273. -- باب: ما لا قصاص فيه
-- باب: جن صورتوں میں قصاص واجب نہیں ہوتا، ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 16098
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ثنا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ رَجُلًا كَسَرَ فَخِذَ رَجُلٍ فَخَاصَمَهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَقِدْنِي قَالَ: لَيْسَ لَكَ الْقَوَدُ، إِنَّمَا لَكَ الْعَقْلُ قَالَ الرَّجُلُ: فَاسْمَعْنِي كَالْأَرْقَمِ إِنْ يُقْتَلْ يَنْقَمْ، وَإِنْ يُتْرَكْ يَلْقَمْ قَالَ: فَأَنْتَ كَالْأَرْقَمِ.
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک شخص کی ران توڑ دی۔ جھگڑا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ کہنے لگا: اے امیر المومنین! مجھے قصاص لے کر دو، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تجھے قصاص نہیں دیت ملے گی، تو وہ آدمی کہنے لگا کہ آپ نے مجھے چتکبرے سانپ کی طرح کر دیا ہے کہ اگر اسے مارا جائے تو وہ انتقام لیتا ہے، چھوڑا جائے تو کاٹتا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو چتکبرے سانپ کی طرح ہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16098]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16098 in Urdu