السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3313. -- باب: ما جاء في جراح المرأة
-- باب: عورت کے زخموں کی دیت و قصاص کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16312
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَمَّا قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ: هِيَ السُّنَّةُ أَشْبَهَ أَنْ يَكُونَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَنْ عَامَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَلَمْ يُشْبِهْ زَيْدٌ أَنْ يَقُولَ هَذَا مِنْ جِهَةِ الرَّأْيِ؛ لِأَنَّهُ لَا يَحْمِلُهُ الرَّأْيُ وَلَا يَكُونُ فِيمَا قَالَ سَعِيدٌ السُّنَّةُ، إِذَا كَانَ يُخَالِفُ الْقِيَاسَ وَالْعَقْلَ إِلَّا عِلْمُ اتِّبَاعٍ فِيمَا نَرَى، وَاللهُ أَعْلَمُ وَقَدْ كُنَّا نَقُولُ بِهِ عَلَى هَذَا الْمَعْنَى، ثُمَّ وَقَفْتُ عَنْهُ، وَأَسْأَلُ اللهَ الْخِيَرَةَ مِنْ قَبْلُ، إِنَّا قَدْ نَجِدُ مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: السُّنَّةُ، ثُمَّ لَا نَجِدُ لِقَوْلِهِ: السُّنَّةُ نَفَاذًا بِأَنَّهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْقِيَاسُ أَوْلَى بِنَا فِيهَا، قَالَ: وَلَا يَثْبُتُ عَنْ زَيْدٍ إِلَّا كَثُبُوتِهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِيَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْنَادٍ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهُ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ، مِثْلَ قَوْلِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَهُوَ قَوْلُ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ابن مسیب رحمہ اللہ نے یہ کہا کہ یہ سنت ہے تو اغلب یہ ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے یا عام صحابہ سے۔ اور زید رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ گمان نہیں کہ انہوں نے یہ بات اپنی رائے سے کہی ہو کیونکہ رائے اس تک نہیں پہنچاتی، اور جس کے بارے میں سعید رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ سنت ہے، جب وہ قیاس اور عقل کے خلاف ہو تو ہماری رائے میں اس کی بنیاد اتباع (یعنی نقل) کے علم کے سوا کچھ نہیں ہو سکتی، واللہ اعلم۔ ہم بھی اسی معنیٰ میں یہ کہا کرتے تھے، پھر میں اس سے رک گیا اور میں اللہ سے بھلائی کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ ہم ان میں سے کسی کو پاتے ہیں جو کہتا ہے: یہ سنت ہے، پھر ہم اس کے ”سنت“ کہنے میں یہ ثبوت نہیں پاتے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، اس لیے ہمارے نزدیک اس میں قیاس اولیٰ ہے۔ اور فرمایا: زید رضی اللہ عنہ سے یہ اسی طرح ثابت ہے جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے۔
یہ بات سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی سند کے ساتھ مروی ہے جس جیسی سند ثابت نہیں ہوتی، اور عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ضعیف سند کے ساتھ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قول کی طرح مروی ہے، اور یہی اہل مدینہ کے فقہاء کا قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الديات/حدیث: 16312]
یہ بات سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی سند کے ساتھ مروی ہے جس جیسی سند ثابت نہیں ہوتی، اور عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ضعیف سند کے ساتھ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قول کی طرح مروی ہے، اور یہی اہل مدینہ کے فقہاء کا قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الديات/حدیث: 16312]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ للشافعي»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16312 in Urdu