السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
325. -- باب: المستحاضة تغسل عنها أثر الدم وتغتسل وتستثفر بثوب وتصلي ثم تتوضأ لكل صلاة
-- باب: مستحاضہ خون کا اثر دھو لے گی، غسل کرے گی، کپڑے کا لنگوٹ کس کر باندھے گی اور نماز پڑھے گی پھر ہر نماز کے لیے وضو کرے گی اس کا بیان
حدیث نمبر: 1635
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ أَبُو يَعْلَى: قُرِئَ عَلَى بِشْرِ بْنِ الْوَلِيدِ: أَخْبَرَكَ أَبُو يُوسُفَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْإِفْرِيقِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ الْمُسْتَحَاضَةَ أَنْ تَتَوَضَّأَ لِكُلِّ صَلَاةٍ" تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو يُوسُفَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ أَبِي أَيُّوبَ الْأَفْرِيقِيِّ وَأَبُو يُوسُفَ ثِقَةٌ إِذَا كَانَ يَرْوِي عَنْ ثِقَةٍ وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتُهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِيعِ عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: أَمَا إِنَّا رُوِّينَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الْمُسْتَحَاضَةَ تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قُلْتُ: نَعَمْ قَدْ رَوَيْتُمْ ذَلِكَ وَبِهِ نَقُولُ قِيَاسًا عَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُضُوءِ مِمَّا خَرَجَ مِنْ دُبُرٍ أَوْ ذَكَرٍ أَوْ فَرْجٍ قَالَ: وَلَوْ كَانَ هَذَا مَحْفُوظًا عِنْدَنَا كَانَ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنَ الْقِيَاسِ.
(الف) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے استحاضہ والی کو حکم دیا کہ ”ہر نماز کے لیے وضو کرے۔“
(ب) ابو یوسف عبداللہ بن علی ابو ایوب افریقی سے نقل کرنے میں متفرد ہے۔
(ج) ابو یوسف ثقہ ہے جب ثقہ سے نقل کرے۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ کہا گیا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحاضہ کو ”ہر نماز کے لیے وضو“ کا حکم دیا۔ میں نے کہا: ہاں، تم نے یہ روایت کیا ہے اور ہم بھی یہی کہتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پر قیاس کرتے ہوئے جو وضو کے متعلق ہے کہ دبر، ذکر یا فرج سے کوئی چیز خارج ہو تو وضو ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر یہ روایت ہمارے نزدیک محفوظ ہوتی تو ہمیں قیاس سے زیادہ پسند ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1635]
(ب) ابو یوسف عبداللہ بن علی ابو ایوب افریقی سے نقل کرنے میں متفرد ہے۔
(ج) ابو یوسف ثقہ ہے جب ثقہ سے نقل کرے۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ کہا گیا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحاضہ کو ”ہر نماز کے لیے وضو“ کا حکم دیا۔ میں نے کہا: ہاں، تم نے یہ روایت کیا ہے اور ہم بھی یہی کہتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پر قیاس کرتے ہوئے جو وضو کے متعلق ہے کہ دبر، ذکر یا فرج سے کوئی چیز خارج ہو تو وضو ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر یہ روایت ہمارے نزدیک محفوظ ہوتی تو ہمیں قیاس سے زیادہ پسند ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1635]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الطبراني في الاوسط 1597»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1635 in Urdu