السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
326. -- باب: غسل المستحاضة
-- باب: مستحاضہ کے غسل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1642
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْتِيُّ الْقَاضِي ثنا مُسْلِمٌ ثنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ: اسْتُحِيضَتْ أُخْتُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ سَبْعَ سِنِينَ فَكَانَتْ تَمْلَأُ مِرْكَنًا لَهَا مَاءً ثُمَّ تَدْخُلُهُ حَتَّى تَعْلُوَ الْمَاءَ حُمْرَةُ الدَّمِ فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا:"" إِنَّهُ لَيْسَ بِحَيْضَةٍ وَلَكِنَّهُ عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي"" وَلَيْسَ فِيهِ الْأَمْرُ بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَهَذَا أَوْلَى لِمُوَافَقَتِهِ سَائِرَ الرِّوَايَاتِ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَرِوَايَةُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ غَلَطٌ لِمُخَالَفَتِهَا سَائِرَ الرِّوَايَاتِ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَمُخَالَفَتِهَا الرِّوَايَةَ الصَّحِيحَةَ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی بہن سات سال مستحاضہ رہیں، وہ اپنا ٹب پانی سے بھر لیتی تھیں پھر (نہانے کے لیے) داخل ہوتیں تو خون کی سرخی پانی کے اوپر آجاتی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں بلکہ یہ ایک رگ ہے، غسل کر اور نماز پڑھ۔“ (ب) اس روایت میں ہر نماز کے لیے غسل کا حکم نہیں، یہ امام زہری کی تمام روایات کے موافق ہے۔
محمد بن اسحاق کی زہری سے روایت غلط ہے، کیونکہ یہ زہری کی باقی تمام روایات اور عراک بن مالک عن عروہ عن عائشہ کی صحیح روایت کے خلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1642]
محمد بن اسحاق کی زہری سے روایت غلط ہے، کیونکہ یہ زہری کی باقی تمام روایات اور عراک بن مالک عن عروہ عن عائشہ کی صحیح روایت کے خلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1642]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1642 in Urdu