🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3338. -- باب: أصل القسامة والبداية فيها مع اللوث بأيمان المدعي
-- باب: قسامہ کی اصل کا بیان، اور لوث (قتل کے ظاہری قرائن) کی موجودگی میں مدعی کی قسموں سے آغاز کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16434
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَعْنَى، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ مُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ، انْطَلَقَا قَبْلَ خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ، فَقُتِلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ، فَاتَّهَمُوا الْيَهُودَ، فَجَاءَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي أَمْرِ أَخِيهِ وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكُبْرَ الْكُبْرَ" أَوْ قَالَ:" لِيَبْدَأِ الْأَكْبَرُ" فَتَكَلَّمَا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَيُدْفَعُ بِرُمَّتِهِ؟" قَالُوا: أَمْرٌ لَمْ نَشْهَدْهُ، كَيْفَ نَحْلِفُ؟ قَالَ:" فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ قَوْمٌ كُفَّارٌ قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ قَالَ سَهْلٌ: ⦗٢٠٧⦘ دَخَلْتُ مِرْبَدًا لَهُمْ يَوْمًا فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ رَكْضَةً بِرِجْلِهَا هَذَا أَوْ نَحْوُهُ لَفْظُ حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ اللهِ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَحِقُّوا صَاحِبَكُمْ، أَوْ قَالَ: قَتِيلَكُمْ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ قَالُوا: أَمْرٌ لَمْ نَشْهَدْهُ، قَالَ: فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ وَذَكَرَ الْبَاقِيَ بِمَعْنَاهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنِ الْقَوَارِيرِيِّ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ هَكَذَا رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ: يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْكُمْ عَلَى رَجُلٍ وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ كَمَا مَضَى، وَالْعَدَدُ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، وَهُشَيْمِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ ذَكَرَهُ، وَلَمْ يَذْكُرَا سَهْلًا وَلَا رَافِعًا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
سیدنا سہل بن ابی حثمہ اور سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل خیبر کی طرف گئے اور کھجوروں کے باغ میں جدا جدا ہو گئے تو عبداللہ بن سہل قتل کر دیے گئے۔ انہوں نے یہود پر الزام لگایا، تو ان کے بھائی عبدالرحمن بن سہل اور ان کے دونوں چچا زاد حویصہ اور محیصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، عبدالرحمن نے اپنے بھائی کے معاملے میں بات کی حالانکہ وہ ان میں سب سے چھوٹے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑا، بڑا“ یا فرمایا: ”بڑا پہلے بات کرے۔“ تو ان دونوں نے اپنے ساتھی کے معاملے میں بات کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے پچاس آدمی ان میں سے کسی ایک آدمی پر قسم اٹھائیں گے تو اسے رسی سمیت تمہارے حوالے کر دیا جائے؟“ انہوں نے کہا: ”یہ ایسا معاملہ ہے جس میں ہم موجود نہیں تھے، ہم کیسے قسم اٹھائیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہودی اپنے پچاس آدمیوں کی قسموں کے ذریعے تمہارے دعوے سے بری ہو جائیں؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! وہ کافر لوگ ہیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا کر دی۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک دن ان کے باڑے میں داخل ہوا تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے اپنی ٹانگ سے لات ماری۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے پچاس آدمیوں کی قسموں کے ذریعے اپنے ساتھی“ یا فرمایا: ”اپنے مقتول (کے خون) کے مستحق بن جاؤ۔“ انہوں نے کہا: ”یہ ایسا معاملہ ہے جس میں ہم موجود نہیں تھے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہودی اپنے پچاس آدمیوں کی قسموں کے ذریعے تمہارے دعوے سے بری ہو جائیں“، اور باقی حدیث اسی معنی میں ذکر کی۔
حماد بن زید نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے: ”تم میں سے پچاس آدمی ایک آدمی پر قسم اٹھائیں“، جبکہ جماعت کی روایت وہی ہے جو گزر چکی، اور ایک راوی کے مقابلے میں جماعت کا یاد رکھنا زیادہ قابلِ ترجیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16434]

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16434 in Urdu