السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3338. -- باب: أصل القسامة والبداية فيها مع اللوث بأيمان المدعي
-- باب: قسامہ کی اصل کا بیان، اور لوث (قتل کے ظاہری قرائن) کی موجودگی میں مدعی کی قسموں سے آغاز کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16436
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، سَمِعَ بَشِيرَ بْنَ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: وُجِدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ قَتِيلًا فِي قَلِيبٍ مِنْ قُلُبِ خَيْبَرَ، فَجَاءَ أَخُوهُ ⦗٢٠٨⦘ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَعَمَّاهُ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكُبْرَ الْكُبْرَ" فَتَكَلَّمَ أَحَدُ عَمَّيْهِ الْكَبِيرُ مِنْهُمَا، إِمَّا حُوَيِّصَةُ، وَإِمَّا مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا وَجَدْنَا عَبْدَ اللهِ، قَتِيلًا فِي قَلِيبٍ مِنْ قُلُبِ خَيْبَرَ، فَذَكَرَ يَهُودَ وَعَدَاوَتِهُمْ وَشَرَّهُمْ، قَالَ:" أَفَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا يَحْلِفُونَ أَنَّهُمْ لَمْ يَقْتُلُوهُ؟" قَالُوا: وَكَيْفَ نَرْضَى بِأَيْمَانِهِمْ وَهُمْ مُشْرِكُونَ؟ قَالَ:" فَيُقْسِمُ مِنْكُمْ خَمْسُونَ أَنَّهُمْ قَتَلُوهُ؟" قَالُوا: وَكَيْفَ نُقْسِمُ عَلَى مَا لَمْ نَرَهُ؟ قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدِ، عَنْ سُفْيَانَ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَسُقْ مَتْنَهُ، وَأَحَالَ بِهِ عَلَى رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ،.
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل خیبر کے کنووں میں سے ایک کنویں میں مقتول پائے گئے، تو ان کے بھائی عبدالرحمن بن سہل اور ان کے دونوں چچا حویصہ اور محیصہ آئے، عبدالرحمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بات کرنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑا، بڑا۔“ تو ان کے دونوں چچاؤں میں سے بڑے نے بات کی، یا تو حویصہ نے یا محیصہ نے، اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم نے عبداللہ کو خیبر کے کنووں میں سے ایک کنویں میں مقتول پایا ہے“، اور یہود کا، ان کی دشمنی اور ان کے شر کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہودی پچاس قسمیں اٹھا کر کہ انہوں نے اسے قتل نہیں کیا، تمہارے دعوے سے بری ہو جائیں؟“ انہوں نے کہا: ”ہم ان کی قسموں پر کیسے راضی ہوں جبکہ وہ مشرک ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا تم میں سے پچاس آدمی قسم اٹھائیں گے کہ انہوں نے اسے قتل کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جو ہم نے دیکھا نہیں اس پر کیسے قسم اٹھائیں؟“ راوی کہتے ہیں: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16436]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16436 in Urdu