🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3354. -- باب: من لا يكون سحره كفرا ولم يقتل به أحدا لم يقتل
-- باب: جس کا جادو کفر کی حد تک نہ پہنچا ہو اور اس نے اس کے ذریعے کسی کو قتل نہ کیا ہو تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16506
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَمْرَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثَةَ وَهُوَ أَبُو الرِّجَالِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَصَابَهَا مَرَضٌ وَأَنَّ بَعْضَ بَنِي أَخِيهَا ذَكَرُوا شَكْوَاهَا لِرَجُلٍ مِنَ الزُّطِّ يَتَطَيَّبُ، وَأَنَّهُ قَالَ لَهُمْ: إِنَّكُمْ لَتَذْكُرُونَ امْرَأَةً مَسْحُورَةً سَحَرَتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا فِي حِجْرِ الْجَارِيَةِ الْآنَ صَبِيُّ قَدْ بَالَ فِي ⦗٢٣٧⦘ حِجْرِهَا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ الله عَنْهَا فَقَالَتْ: ادْعُوا لِي فُلَانَةً، لَجَارِيَةٍ لَهَا، قَالُوا: فِي حِجْرِهَا فُلَانٌ، لِصَبِيٍّ لَهُمْ، قَدْ بَالَ فِي حِجْرِهَا، فَقَالَتْ: إِيْتُونِي بِهَا، فَأُتِيَتْ بِهَا فَقَالَتْ: سَحَرْتِنِي؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: لِمَهْ؟ قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أُعْتَقَ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَعْتَقَتْهَا عَنْ دُبُرٍ مِنْهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ لِلَّهِ عَلِيَّ أَنْ لَا تُعْتَقِي أَبَدًا، انْظُرُوا أَسْوَأَ الْعَرَبِ مَلَكَةً فَبِيعُوهَا مِنْهُمْ، وَاشْتَرَتْ بِثَمَنِهَا جَارِيَةً فَأَعْتَقَتْهَا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ ایک دفعہ وہ بیمار ہوگئیں تو ان کے بعض بھتیجوں نے ان کی بیماری کا ذکر زط قوم کے ایک آدمی سے کیا جو علاج معالجہ کرتا تھا، تو اس نے ان سے کہا: تم ایک ایسی عورت کا ذکر کر رہے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے، اس پر اس کی لونڈی نے جادو کیا ہے، اس لونڈی کی گود میں اب ایک بچہ بھی ہے جس نے اس کی گود میں پیشاب کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات آ کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتائی تو آپ نے فرمایا: فلاں لونڈی کو بلاؤ، انہوں نے کہا: اس کی گود میں ہمارا فلاں بچہ ہے جس نے اس کی گود میں پیشاب کر دیا ہے، آپ نے فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ، اسے لایا گیا تو آپ نے پوچھا: کیا تو نے مجھ پر جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، پوچھا: کیوں؟ کہنے لگی: میں چاہتی تھی کہ آزاد ہو جاؤں، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے اپنی وفات کے بعد آزاد ہونے والی (مدبرہ) قرار دیا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں اللہ کے لیے نذر مانتی ہوں کہ تو کبھی آزاد نہ ہوگی، دیکھو عربوں میں سے جو غلاموں کے ساتھ سب سے برا سلوک کرنے والے ہوں انہیں یہ بیچ دو، اور پھر اس کی قیمت سے ایک دوسری لونڈی خریدی اور اسے آزاد کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16506]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16506 in Urdu