السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3359. -- باب: الأئمة من قريش
-- باب: ائمہ (حکمرانوں) کا قبیلہ قریش میں سے ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16538
حَدَّثَنَا أبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا وُهَيْبٌ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ خُطَبَاءُ الْأَنْصَارِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَقُولُ: يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنْكُمْ قَرَنَ مَعَهُ رَجُلًا مِنَّا، فَنَرَى أَنْ يَلِيَ هَذَا الْأَمْرَ رَجُلَانِ، أَحَدُهُمَا مِنْكُمْ وَالْآخَرُ مِنَّا، قَالَ: فَتَتَابَعَتْ خُطَبَاءُ الْأَنْصَارِ عَلَى ذَلِكَ، فَقَامَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَإِنَّ الْإِمَامَ يَكُونُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَنَحْنُ أَنْصَارُهُ كَمَا كُنَّا أَنْصَارَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرًا يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، وَثَبَّتَ قَائِلَكُمْ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا لَوْ فَعَلْتُمْ غَيْرَ ذَلِكَ لَمَا صَالَحْنَاكُمْ، ثُمَّ أَخَذَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ بِيَدِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: هَذَا ⦗٢٤٧⦘ صَاحِبُكُمْ فَبَايَعُوهُ، ثُمَّ انْطَلَقُوا، فَلَمَّا قَعَدَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَلَمْ يَرَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَامَ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَتَوْا بِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَتَنَهُ، أَرَدْتَ أَنْ تَشُقَّ عَصَا الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ: لَا تَثْرِيبَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ فبايعه، ثُمَّ لَمْ يَرَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلَ عَنْهُ، حَتَّى جَاءُوا بِهِ، فَقَالَ: ابْنَ عَمَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَوَارِيَّهُ، أَرَدْتَ أَنْ تَشُقَّ عَصَا الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ: لَا تَثْرِيبَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهُ فَبَايَعَاهُ..
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو انصار کے خطباء کھڑے ہوئے۔ ان میں سے ایک کہنے لگا: اے مہاجرین کی جماعت! جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تم میں سے کسی کو عامل بنایا تو اس کے ساتھ ایک آدمی ہم میں سے بھی مقرر فرمایا، لہٰذا ہمارا خیال ہے کہ اس امارت کو دو آدمی سنبھالیں، ایک ہم میں سے ایک تم میں سے۔ سارے خطباء نے اس کی تائید کی تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود مہاجرین میں سے تھے اور امام بھی مہاجرین سے ہوگا اور ہم اس کے بھی اسی طرح مددگار ہوں گے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگار تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے انصاریو! تمہیں اللہ بہترین بدلہ دے اور تمہارے کہنے والے کو ثابت قدم رکھے، پھر فرمایا: سنو! اگر تم اس کے علاوہ کچھ کرتے تو ہم تم سے صلح نہ کرتے۔ پھر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور کہا: یہ تمہارے امیر ہیں، ان کی بیعت کرلو، پھر لوگ چلے گئے۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر بیٹھے تو لوگوں کے چہروں کو دیکھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نظر نہ آئے۔ ان کے بارے میں پوچھا تو انصار کے کچھ لوگ اٹھے اور انہیں لے آئے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد! کیا تم نے مسلمانوں کی جماعت میں پھوٹ ڈالنے کا ارادہ کیا تھا؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے خلیفۂ رسول! کوئی ملامت نہیں، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی بیعت کرلی۔ پھر سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نظر نہ آئے۔ ان کے بارے میں پوچھا یہاں تک کہ لوگ انہیں لے آئے تو فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کے بیٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری! کیا تم نے مسلمانوں کی جماعت میں پھوٹ ڈالنے کا ارادہ کیا تھا؟ انہوں نے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ والی بات کہی: اے خلیفۂ رسول! کوئی ملامت نہیں، اور دونوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16538]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16538 in Urdu