السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3367. -- باب: جواز تولية الإمام من ينوب عنه، وإن لم يكن قرشيا
-- باب: امام کے لیے اپنے کسی ایسے نائب کو مقرر کرنے کے جواز کا بیان خواہ وہ قریشی نہ ہو۔
حدیث نمبر: 16597
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ح وَأَنْبَأَ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، قَالَا: ثَنَا أَبُو يَعْلَى، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ الْقَوَارِيرِيُّ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَعَثَ زَيْدًا وَجَعْفَرًا وَعَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ، وَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَى زَيْدٍ، فَأُصِيبُوا جَمِيعًا، قَالَ أَنَسٌ: فَنَعَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّاسِ قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ الْخَبَرُ، قَالَ:" أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَ جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ بَعْدُ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ"، قَالَ: فَجَعَلَ يُحَدِّثُ النَّاسَ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَأَحْمَدَ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ حَمَّادٍ، وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ النَّاسَ إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِمْ أَمِيرٌ وَلَا خَلِيفَةُ أَمِيرٍ، فَقَامَ بِإِمَارَتِهِمْ مَنْ هُوَ صَالِحٌ لِلْإِمَارَةِ وَانْقَادُوا لَهُ انْعَقَدَتْ وِلَايَتُهُ، حَيْثُ اسْتَحْسَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فَعَلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مِنْ أَخْذِهِ الرَّايَةَ، وَتَأَمُّرِهِ عَلَيْهِمْ دُونَ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدُونَ اسْتِخْلَافِ مَنْ مَضَى مِنْ أُمَرَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زید، جعفر اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کو لشکر دے کر بھیجا اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا۔ سب کے سب شہید ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر کے آنے سے پہلے ہی ان تینوں کی شہادت کی خبر دی۔ فرمایا: ”زید نے جھنڈا تھاما، وہ شہید ہو گئے، پھر جعفر نے اور پھر عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا تھاما، وہ دونوں بھی شہید ہو گئے۔ پھر اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد بن ولید نے جھنڈا تھام لیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتا رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
اس حدیث میں اس بات پر دلیل ہے کہ جو امارت کا اہل ہو وہ نائب بن سکتا ہے اور اگر دیکھے کہ کوئی اور اہل نہیں تو بغیر مقرر کیے بھی آدمی امیر بن سکتا ہے جیسا کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16597]
اس حدیث میں اس بات پر دلیل ہے کہ جو امارت کا اہل ہو وہ نائب بن سکتا ہے اور اگر دیکھے کہ کوئی اور اہل نہیں تو بغیر مقرر کیے بھی آدمی امیر بن سکتا ہے جیسا کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16597]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16597 in Urdu