السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3370. -- باب: الصبر على أذى يصيبه من جهة إمامه، وإنكار المنكر من أموره بقلبه، وترك الخروج عليه
-- باب: امام کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر صبر کرنے، اس کے خلافِ شرع کاموں کو دل سے برا جاننے اور اس کے خلاف بغاوت (خروج) ترک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16624
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، قَالَ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَ يَزِيدُ بْنُ سَلَمَةَ الْجُعْفِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَسْأَلُونَنَا حَقَّهُمْ، وَيَمْنَعُونَا حَقَّنَا، فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ، فَقَالَ:" اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا، وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ". ⦗٢٧٤⦘.
سیدنا یزید بن سلمہ جعفی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: ”یا رسول اللہ! اگر ہم پر ایسے حکمران آئیں جو ہم سے اپنا حق مانگیں لیکن ہمارا حق ادا نہ کریں تو ہم کیا کریں؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض کر لیا۔ انہوں نے پھر پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اعراض کر لیا، پھر انہوں نے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی فرمان برداری کرو، تم اپنے عمل کے مکلف ہو اور وہ اپنے عمل کے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16624]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16624 in Urdu