🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3374. -- باب: النصيحة لله ولكتابه ورسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم وما على الرعية من إكرام السلطان المقسط
-- باب: اللہ، اس کی کتاب، اس کے رسول، مسلمانوں کے ائمہ (حکمرانوں) اور عام مسلمانوں کے لیے خیر خواہی کرنے، اور رعایا پر انصاف پرور حکمران کا احترام لازم ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16656
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مِحْمَشٍ الْفَقِيهُ،، أَنْبَأَ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثَنَا جَرِيرُ بْنُ مُنِيبٍ، ثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، أَنْبَأَ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ" اللهَ يَرْضَى لَكُمْ ثَلَاثًا، وَيَكْرَهُ لَكُمْ ثَلَاثًا: رَضِيَ لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِه شَيْئًا، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا، وَأَنْ تُنَاصِحُوا مَنْ وَلَّى اللهُ أَمَرَكُمْ، وَيَكْرَهُ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ" قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ: سَمِعْتُ تَمِيمًا الدَّارِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ لِمَنْ؟ قَالَ: لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ"، أَوْ قَالَ:" لِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ" أَخْرَجَ مُسْلِمٌ الْحَدِيثَ الْأَوَّلَ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ جَرِيرٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تمہارے لیے تین چیزیں پسند فرمائی ہیں اور تین چیزیں ناپسند: وہ تم سے اس بات پر راضی ہوا ہے کہ تم اسی کی عبادت کرو، شرک نہ کرو، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور فرقوں میں نہ بٹو، اور امیر کی خیر خواہی کرو؛ اور تمہارے لیے قیل و قال، کثرتِ سوال اور مال کے ضیاع کو ناپسند کیا ہے۔“
عطاء بن یزید لیثی فرماتے ہیں: میں نے سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین نصیحت ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی؛ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! کس کے لیے؟ فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے اور ائمہ مسلمین کے لیے۔“ یا فرمایا: ”ائمہ مسلمین اور ان کے عام لوگوں کے لیے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16656]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16656 in Urdu