السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3376. -- باب: ما على الرجل من حفظ اللسان عند السلطان وغيره
-- باب: انسان پر حکمران اور دیگر افراد کے سامنے اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری کا بیان۔
حدیث نمبر: 16669
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ عُجْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ أَنَا تَاسِعُ تِسْعَةٍ، فَقَالَ لَنَا: أَتَسْمَعُونَ؟ هَلْ تَسْمَعُونَ؟ ثَلَاثَ مِرَارٍ إِنَّهَا" سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَسْتُ مِنْهُ وَلَيْسَ مِنِّي، وَلَا يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَيْضًا، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ:" كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا بَقِيتُمْ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ مَرِجَتْ أَمَانَتُهُمْ وَعُهُودُهُمْ، وَكَانُوا هَكَذَا"، ثُمَّ أَدْخَلَ أَصَابِعَهُ بَعْضَهَا فِي بَعْضٍ، فَقَالُوا: فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ كَيْفَ نَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" خُذُوا مَا تَعْرِفُونَ، وَدَعُوا مَا تُنْكِرُونَ". ثُمَّ خَصَّ بِهَذَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ، فَقَالَ: مَا تَأْمُرُنِي بِهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ؟ قَالَ:" آمُرُكَ بِتَقْوَى اللهِ، عَلَيْكَ بِنَفْسِكَ، وَإِيَّاكَ وَعَامَّةَ الْأُمُورِ".
سیدنا ابن عجرہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مسجد میں نو آدمی تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور فرمایا: ”کیا تم سنتے ہو؟ کیا تم سنتے ہو؟“ تین مرتبہ فرمایا، پھر فرمایا: ”عنقریب تم میں ایسے امراء ہوں گے کہ جو ان کے پاس گیا ان کی تصدیق کی“ آگے سابقہ روایت۔
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو فرمایا: ”تم کیسے ہو گے جب برے لوگوں میں تم رہو گے، جن کی امانتیں اور عہد بگڑ چکے ہوں گے اور وہ اس طرح ہو گئے ہوں گے؟“ پھر اپنی انگلیاں آپس میں داخل کیں۔ پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس وقت ہم کیا کریں؟ فرمایا: ”جو تمہیں اچھی لگے، وہ لے لینا اور جو بری لگے چھوڑ دینا۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے خود سوال کیا کہ مجھے کیا حکم دیتے ہیں کہ میں اس وقت کیا کروں؟ فرمایا: ”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنے نفس کو قابو کرنے اور عام امور سے اپنے آپ کو بچانے کا مشورہ دیتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16669]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو فرمایا: ”تم کیسے ہو گے جب برے لوگوں میں تم رہو گے، جن کی امانتیں اور عہد بگڑ چکے ہوں گے اور وہ اس طرح ہو گئے ہوں گے؟“ پھر اپنی انگلیاں آپس میں داخل کیں۔ پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس وقت ہم کیا کریں؟ فرمایا: ”جو تمہیں اچھی لگے، وہ لے لینا اور جو بری لگے چھوڑ دینا۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے خود سوال کیا کہ مجھے کیا حکم دیتے ہیں کہ میں اس وقت کیا کروں؟ فرمایا: ”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنے نفس کو قابو کرنے اور عام امور سے اپنے آپ کو بچانے کا مشورہ دیتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16669]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16669 in Urdu