السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3386. -- باب: لا يبدأ الخوارج بالقتال حتى يسألوا ما نقموا، ثم يؤمروا بالعود، ثم يؤذنوا بالحرب
-- باب: خوارج کے خلاف اس وقت تک قتال کا آغاز نہ کیا جائے جب تک کہ ان سے ان کے اعتراضات کی وجہ نہ پوچھی جائے، پھر انہیں حق کی طرف لوٹنے کا حکم دیا جائے، اور (نہ ماننے پر) پھر انہیں جنگ سے خبردار کیا جائے۔
حدیث نمبر: 16738
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، قَالَ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْمُرُ أُمَرَاءَهُ حِينَ كَانَ يَبْعَثُهُمْ فِي الرِّدَّةِ:" إِذَا غَشِيتُمْ دَارًا فَإِنْ سَمِعْتُمْ بِهَا أَذَانًا بِالصَّلَاةِ فَكُفُّوا حَتَّى تَسْأَلُوهُمْ مَاذَا نَقَمُوا، فَإِنْ لَمْ تَسْمَعُوا أَذَانًا فَشُنُّوهَا غَارَةً، وَاقْتُلُوا وَحَرِّقُوا وَانْهَكُوا فِي الْقَتْلِ وَالْجِرَاحِ، لَا يُرَى بِكُمْ وَهَنٌ لِمَوْتِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
طلحہ بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب اہل الردۃ سے جہاد کے لیے بھیجتے تو امراء کو حکم دیتے کہ جب تم ان کے گھروں تک پہنچ جاؤ تو رک جاؤ، اگر تم اذان کی آواز سنو تو ان سے ان کی ناراضگی کا سبب پوچھو، اگر اذان کی آواز نہ سنو تو حملہ کر دو، انہیں مارو، قتل کرو، جلاؤ، زخمی کرو، تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کی وجہ سے تم میں موت کا خوف نہ آئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16738]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16738 in Urdu