🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3388. -- باب: الرجل يقتل واحدا من المسلمين على التأويل، أو جماعة غير ممتنعين يقتلون واحدا كان عليهم القصاص
-- باب: اس شخص کا بیان جو کسی مسلمان کو کسی تاویل کی بنا پر قتل کر دے، یا کوئی ایسا گروہ جس کے پاس کوئی بچاؤ (شوکت) نہ ہو وہ کسی ایک کو قتل کر دے تو ان پر قصاص واجب ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q16759
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا} [الإسراء: 33] ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِيمَا يَحِلُّ دَمُ الْمُسْلِمِ، وَقَتْلُ نَفْسٍ بِغَيْرِ نَفْسٍ". وَرُوِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اعْتَبَطَ مُسْلِمًا بِغَيْرِ قَتْلٍ فَهُوَ قَوَدُ يَدِهِ".
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا﴾ ”اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے تو یقیناً ہم نے اس کے ولی کو (قصاص کا) اختیار دیا ہے۔“ [سورة الإسراء: 33]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کے بارے میں فرمایا جن سے مسلمان کا خون حلال ہو جاتا ہے: ”اور کسی جان کو ناحق قتل کرنا۔“
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے: ”جس نے کسی مسلمان کو بلا وجہ (ناحق) قتل کیا تو اس کے ہاتھ (کے کیے) کا قصاص (لیا جائے گا)۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: Q16759]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16759
وَاحْتُجَّ أَيْضًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي ابْنِ مُلْجَمٍ بَعْدَمَا ضَرَبَهُ: أَطْعِمُوهُ، وَاسْقُوهُ، أَحْسِنُوا إِسَارَهُ، فَإِنْ عِشْتُ فَأَنَا وَلِيُّ دَمِي، أَعْفُو إِنْ شِئْتُ وَإِنْ شِئْتُ اسْتَقَدْتُ، وَإِنْ مُتُّ فَقَتَلْتُمُوهُ فَلَا تُمَثِّلُوا.
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابن ملجم کے متعلق (جب اس نے آپ پر حملہ کیا تھا) فرمایا: اس کو کھلاؤ پلاؤ اور اچھے قیدی کی طرح رکھو، اگر میں بچ گیا تو میں اپنا خود ولی ہوں، چاہوں معاف کروں یا چاہوں قتل کر دوں، اور اگر میں نہ بچا اور تم نے اسے قتل کیا تو اس کا «مُثْلَة» ”مثلہ“ نہ کرنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16759]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16759 in Urdu