السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3399. -- باب: الخلاف في قتال أهل البغي
-- باب: اہلِ بغاوت سے قتال کرنے کے متعلق اختلافِ آراء کا بیان۔
حدیث نمبر: 16782
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي أُمَامَةَ فَجِيءَ بِرُءُوسٍ مِنْ رُءُوسِ الْخَوَارِجِ، فَنُصِبَتْ عَلَى دَرَجِ دِمَشْقَ، فَقَالَ:" كِلَابُ النَّارِ، قَالَهَا ثَلَاثًا، شَرُّ قَتْلَى قُتِلُوا تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ، خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ"، قَالَهَا ثَلَاثًا، قُلْتُ: شَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ شَيْئًا تَقُولُهُ بِرَأْيِكَ؟ قَالَ: إِنِّي إِذًا لَجَرِيءٌ، بَلْ شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابو غالب کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ خوارج کے سر لائے گئے اور وہ دمشق کے میناروں پر رکھے گئے تو انہوں نے کہا: ”جہنم کے کتے“، تین مرتبہ یہی فرمایا اور فرمایا: ”آسمان کے نیچے سب سے بدترین مقتول اور ان کو قتل کرنے والے اور ان کے ہاتھوں قتل ہونے والے سب سے بہترین“، تین مرتبہ فرمایا۔ میں نے پوچھا: یہ آپ خود کہہ رہے ہیں یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: کیا میں اتنا جرات والا ہوں؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16782]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16782 in Urdu