السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3400. -- باب: النهي عن القتال في الفرقة ومن ترك قتال الفئة الباغية خوفا من أن يكون قتالا في الفرقة
-- باب: تفرقے کی صورت میں قتال کی ممانعت، اور اس شخص کا بیان جس نے اس خوف سے باغی گروہ سے قتال ترک کر دیا کہ کہیں یہ تفرقے والا قتال نہ ہو۔
حدیث نمبر: 16798
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الدَّوْلَابِيُّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا بَلَغَ النَّاسُ مِنَ الْجَهْدِ مَا يُعْجِزُ الرَّجُلَ أَنْ يَقُومَ مِنْ فِرَاشِهِ إِلَى مُصَلَّاهُ؟" قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" تَعَفَّفْ" ثُمَّ قَالَ:" كَيْفَ تَصْنَعُ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا كَثُرَ الْمَوْتُ حَتَّى يَصِيرَ الْبَيْتُ بِالْعَبْدِ؟" قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" تَصْبِرُ" ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا كَثُرَ الْقَتْلُ حَتَّى تَغْرَقَ أَحْجَارُ الزَّيْتِ ⦗٣٣١⦘ بِالدِّمَاءِ؟" قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" تَلْحَقُ بِمَنْ أَنْتَ مِنْهُ" قُلْتُ: لَا أَحْمِلُ مَعِيَ السِّلَاحَ؟ قَالَ:" لَا شَارَكْتَ الْقَوْمَ إِذًا، وَلَكِنْ إِذَا خِفْتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ فَأَلْقِ ثَوْبَكَ عَلَى وَجْهِكَ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! اس وقت تو کیا کرے گا جب اتنی مشقت کر دی جائے گی کہ لوگ اپنے گھر سے نماز کے لیے نہیں آ سکیں گے؟“ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درگزر کرنا۔“ پھر فرمایا: ”اے ابوذر! اس وقت کیا کرو گے جب اموات زیادہ ہوں گی اور گھر غلام کا ہو جائے گا؟“ میں نے کہا: اللہ اور رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر کرنا۔“ پھر فرمایا: ”اے ابوذر! اس وقت کیا کرو گے جب قتل زیادہ ہو جائیں گے یہاں تک کہ پتھر بھی خون میں ڈوب جائیں گے؟“ میں نے کہا: اللہ اور رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تو ہو وہیں رہنا۔“ میں نے کہا: اپنا اسلحہ بھی نہ اٹھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی بھی قوم کے ساتھ شریک نہ ہونا اور جب تجھے اپنے قتل کا اندیشہ ہو تو اپنے منہ پر کپڑا ڈال لینا، تیرا اور اس کا گناہ اسی پر ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16798]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16798 in Urdu