السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3400. -- باب: النهي عن القتال في الفرقة ومن ترك قتال الفئة الباغية خوفا من أن يكون قتالا في الفرقة
-- باب: تفرقے کی صورت میں قتال کی ممانعت، اور اس شخص کا بیان جس نے اس خوف سے باغی گروہ سے قتال ترک کر دیا کہ کہیں یہ تفرقے والا قتال نہ ہو۔
حدیث نمبر: 16804
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى الْحُرَقَاتِ، فَنَذَرُوا وَهَرَبُوا، فَأَدْرَكْنَا رَجُلًا فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَضَرَبْنَاهُ حَتَّى قَتَلْنَاهُ، فَعَرَضَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، فَذَكَرْتُهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا قَالَهَا مَخَافَةَ السِّلَاحِ وَالْقَتْلِ، قَالَ:" أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ قَالَهَا مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ أَمْ لَا؟ مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟"، قَالَ: فَمَا زَالَ يَقُولُ حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أُسْلِمْ إِلَّا يَوْمَئِذٍ قَالَ أَبُو ظَبْيَانَ: قَالَ سَعْدٌ: وَأَنَا وَاللهِ لَا أَقْتُلُهُ حَتَّى يَقْتُلَهُ ذُو الْبُطَيْنِ، يَعْنِي أُسَامَةَ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللهُ: {قَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ} [البقرة: ١٩٣] ؟ قَالَ سَعْدٌ: فَقَدْ قَاتَلْنَاهُمْ حَتَّى لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ، وَأَنْتَ وَأَصْحَابُكَ تُرِيدُونَ أَنْ نُقَاتِلَ حَتَّى تَكُونَ فِتْنَةٌ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرقات کی طرف بھیجا تو وہ لوگ ڈر گئے اور گھبرا گئے۔ ہم نے ایک شخص کو پکڑ لیا تو اس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ پڑھ لیا، لیکن ہم نے اسے قتل کر دیا تو مجھے اپنے نفس میں خیال محسوس ہوا، پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اسامہ! «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» سے تجھے یومِ قیامت کون بچائے گا؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے تو اسلحہ کے ڈر سے کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اس کے دل کو پھاڑ کر دیکھا تھا؟ تجھے اسی «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» سے کون بچائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ یہ کہتے رہے یہاں تک کہ میں نے سوچا: کاش! میں مسلمان ہی آج ہوا ہوتا۔
ابو ظبیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واللہ! میں (لا الہ الا اللہ کہنے والے کو) اس وقت تک قتل نہیں کروں گا جب تک کہ ذو البطین یعنی اسامہ اسے قتل نہ کرے تو ایک آدمی کہنے لگا: کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾ [سورة البقرة: 193] ؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: فتنہ کے ختم ہونے تک تو ہم لڑے تھے، فتنہ تو باقی رہا ہی نہیں تھا، تو اور تیرے ساتھی تو چاہتے ہیں کہ فتنہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16804]
ابو ظبیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واللہ! میں (لا الہ الا اللہ کہنے والے کو) اس وقت تک قتل نہیں کروں گا جب تک کہ ذو البطین یعنی اسامہ اسے قتل نہ کرے تو ایک آدمی کہنے لگا: کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾ [سورة البقرة: 193] ؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: فتنہ کے ختم ہونے تک تو ہم لڑے تھے، فتنہ تو باقی رہا ہی نہیں تھا، تو اور تیرے ساتھی تو چاہتے ہیں کہ فتنہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قتال أهل البغي/حدیث: 16804]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16804 in Urdu