🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3402. -- باب: قتل من ارتد عن الإسلام
-- باب: اسلام سے پھرنے والے (مرتد) کو قتل کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16817
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَا: كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الدَّارِ وَهُوَ مَحْصُورٌ، وَكُنَّا إِذَا دَخَلْنَا نَدْخُلُ مَكَانًا نَسْمَعُ كَلَامَ مَنْ بِالْبَلَاطِ، فَخَرَجَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمًا مُتَغَيِّرًا لَوْنُهُ، قُلْنَا: مَا لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: إِنَّهُمْ لَيُوَاعِدُونِي بِالْقَتْلِ، فَقُلْنَا: يَكْفِيكَهُمُ اللهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَبِمَ يَقْتُلُونِي وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ حَقٍّ"، فَوَاللهِ مَا زَنَيْتُ بِجَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ قَطُّ، وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ، وَلَا تَمَنَّيْتُ بِدِينِي بَدَلًا مُذْ هَدَانِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْإِسْلَامِ، فَبِمَ يَقْتُلُونِي؟.
(١٦٨١٧) ابو امامہ بن سہل بن حنیف اور عبداللہ بن عامر بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عثمان کے ساتھ گھر میں تھے، جب وہ قید تھے۔ ہم گھر میں وہاں سے داخل ہوئے کہ ہم باہر کھڑے لوگوں کی باتیں سن سکتے تھے تو حضرت عثمان ایک دن نکلے، آپ کا رنگ تبدیل تھا۔ ہم نے کہا: اے امیر المؤمنین! خیریت ہے؟ فرمایا: وہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے کہا: اللہ آپ کو ان سے کافی ہے۔ کہا: وہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ کسی بھی مسلمان کا خون صرف ٣ وجوہات کی بنا پر جائز ہے: 1 مرتد عن الاسلام 2 شادی شدہ زانی 3 ناحق قتل کرنے والا۔ نہ تو میں نے نہ جاہلیت میں نہ اسلام میں زنا کیا، نہ کسی کو ناحق قتل کیا، جب سے اللہ نے مجھے ہدایت دی ہے۔ میں نے کبھی اسلام کو چھوڑنے کا سوچا بھی نہیں، پھر کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16817]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16817 in Urdu