السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3402. -- باب: قتل من ارتد عن الإسلام
-- باب: اسلام سے پھرنے والے (مرتد) کو قتل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16822
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ مُسَدَّدٌ: ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا أَبُو بُرْدَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى: أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي رَجُلَانِ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ، أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِي، وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِي، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ، وَكِلَاهُمَا سَأَلَ ⦗٣٣٩⦘ الْعَمَلَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاكِتٌ، فَقَالَ:" مَا تَقُولُ يَا أَبَا مُوسَى، أَوْ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ؟" قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا، وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ، قَالَ: وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ قَلَصَتْ، قَالَ:" لَنْ أَسْتَعْمِلَ، أَوْ لَا أَسْتَعْمِلُ، عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ، وَلَكِنِ اذْهَبْ أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَى، أَوْ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ"، فَبَعَثَهُ عَلَى الْيَمَنِ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ مُعَاذٌ قَالَ: انْزِلْ، وَأَلْقَى لَهُ وِسَادَةً، وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ مُوثَقٌ، قَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ، ثُمَّ رَاجَعَ دِينَهُ دِينَ السُّوءِ، قَالَ: لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ، قَضَاءَ اللهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثَلَاثَ مِرَارٍ، وَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ، ثُمَّ تَذَاكَرَا قِيَامَ اللَّيْلِ قَالَ أَحَدُهُمَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ، أَوْ أَقُومُ وَأَنَامُ، وَأَرْجُو فِي نَوْمَتِي مَا أَرْجُو فِي قَوْمَتِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي قُدَامَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ يَحْيَى.
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میرے ساتھ دو اشعری آدمی اور بھی تھے، وہ دونوں میرے دائیں بائیں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے، ان دونوں نے عامل بنانے کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر فرمایا: ”اے ابو موسیٰ! تم کیا کہتے ہو؟“ میں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ دونوں کس لیے آئے ہیں اور ان کا کیا ارادہ ہے، وہ فرماتے ہیں: میں مسواک کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہونٹ کی طرف سکڑتے ہوئے دیکھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو خود مانگ کر عامل بنے اسے ہم عامل نہیں بناتے، لیکن اے ابو موسیٰ! تو یمن جا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو بھیجا، جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ آئے تو فرمایا: آئیے اور ان کے لیے تکیہ رکھا تو ایک آدمی کو دیکھا جو بندھا ہوا تھا، پوچھا: یہ کیا ہے؟ جواب دیا: یہ یہودی تھا مسلمان ہوا لیکن پھر یہودی ہو گیا تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تو اسے قتل کرنے تک نہیں بیٹھوں گا؛ کیونکہ اس میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی فیصلہ ہے (یہ بات تین مرتبہ کہی)، اسے قتل کر دیا گیا، پھر وہ دونوں رضی اللہ عنہما بیٹھے اور قیامِ لیل کے بارے میں مذاکرہ کیا تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور اپنی نیند سے اللہ سے اسی کی امید رکھتا ہوں جو قیام میں امید رکھتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16822]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16822 in Urdu