السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3403. -- باب: ما يحرم به الدم من الإسلام زنديقا كان أو غيره
-- باب: اس اسلام کا بیان جس سے جان (خون) محفوظ ہو جاتی ہے خواہ وہ زندیق ہو یا کوئی اور۔
حدیث نمبر: 16844
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فِي قِصَّةِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِرٌ إِلَى تَبُوكَ نَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ لَيُوحَى إِلَيْهِ، وَأَنَاخَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَضَتِ النَّاقَةُ تَجُرُّ زِمَامَهَا مُنْطَلِقَةً، فَتَلَقَّاهَا حُذَيْفَةُ فَأَخَذَ بِزِمَامِهَا يَقُودُهَا حَتَّى أَنَاخَهَا وَقَعَدَ عِنْدَهَا، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَأَقْبَلَ إِلَى نَاقَتِهِ فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" فَقَالَ: حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنِّي مُسِرٌّ إِلَيْكَ سِرًّا لَا تُحَدِّثَنَّ بِهِ أَحَدًا أَبَدًا، إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أُصَلِّيَ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ"، رَهْطٍ ذَوِي عَدَدٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَانَ إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ يَظُنُّ عُمَرُ أَنَّهُ مِنْ أُولَئِكِ الرَّهْطِ أَخَذَ بِيَدِ حُذَيْفَةَ فَقَادَهُ، فَإِنْ مَشَى مَعَهُ صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِنِ انْتَزَعَ مِنْ يَدِهِ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ، وَأَمَرَ مَنْ يُصَلِّي عَلَيْهِ ⦗٣٤٨⦘ هَذَا مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک کی طرف گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اتر گئے تاکہ آپ کی طرف وحی کی جائے تو اونٹنی نے اٹھ کر بھاگنا چاہا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کی لگام کو پکڑ لیا اور اس کے پاس بیٹھ گئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو اونٹنی کی طرف آئے اور پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: حذیفہ بن یمان، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں ایک راز بتاتا ہوں، کسی کو نہ بتانا کہ مجھے فلاں فلاں پر (نمازِ جنازہ) پڑھنے سے منع کر دیا گیا ہے،“ پس جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ رکھتے، جس (کے جنازے) کے متعلق سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ انکار کر دیتے، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جنازہ نہیں پڑھتے تھے۔
یہ روایت مرسل ہے، اور ایک دوسری سند سے موصولاً بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16844]
یہ روایت مرسل ہے، اور ایک دوسری سند سے موصولاً بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16844]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16844 in Urdu