السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3407. -- باب: من قال في المرتد: يستتاب مكانه، فإن تاب وإلا قتل
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک مرتد سے اسی وقت توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا، پس اگر وہ توبہ کر لے (تو ٹھیک) ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 16879
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، مِنْ أَصْلِهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: زَعَمَ السُّدِّيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ آمَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ، وَقَالَ:" اقْتُلُوهُمْ، وَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ" عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ خَطَلٍ، وَمَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ فَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ خَطَلٍ فَأُدْرِكَ وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَاسْتَبَقَ إِلَيْهِ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَسَبَقَ سَعِيدٌ عَمَّارًا، وَكَانَ أَشَبَّ الرَّجُلَيْنِ، فَقَتَلَهُ، وَأَمَّا مَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ فَأَدْرَكَهُ النَّاسُ فِي السُّوقِ فَقَتَلُوهُ وَأَمَّا عِكْرِمَةُ فَرَكِبَ الْبَحْرَ فَأَصَابَتْهُمْ عَاصِفٌ، فَقَالَ أَصْحَابُ السَّفِينَةِ لِأَهْلِ السَّفِينَةِ: أَخْلِصُوا فَإِنَّ آلِهَتَكُمْ لَا تُغْنِي عَنْكُمْ شَيْئًا هَاهُنَا، قَالَ عِكْرِمَةُ: وَاللهِ لَئِنْ لَمْ يُنَجِّنِي فِي الْبَحْرِ إِلَّا الْإِخْلَاصُ لَا يُنَجِّينِي فِي الْبَرِّ غَيْرُهُ، اللهُمَّ إِنَّ لَكَ عَلَيَّ عَهْدًا، إِنْ أَنْتَ عَافَيْتَنِي مِمَّا أَنَا فِيهِ أَنْ آتِيَ مُحَمَّدًا حَتَّى أَضَعَ يَدِي فِي يَدِهِ، فَلَأَجِدَنَّهُ عَفُوًّا كَرِيمًا، قَالَ: فَجَاءَ فَأَسْلَمَ، وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ فَإِنَّهُ اخْتَفَى عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ⦗٣٥٧⦘ فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَى الْبَيْعَةِ جَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَايِعْ عَبْدَ اللهِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثَلَاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يَأْبَى، فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ:" أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَقُومُ إِلَى هَذَا حِينَ رَآنِي كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلَهُ؟" فَقَالُوا: مَا يُدْرِينَا يَا رَسُولَ اللهِ مَا فِي نَفْسِكَ، هَلَّا أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ؟ قَالَ:" إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ خَائِنَةُ الْأَعْيُنِ".
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مردوں اور دو عورتوں کے علاوہ تمام کو امن دے دیا اور ان کے بارے میں فرمایا: ”اگر یہ کعبہ کے پردے سے بھی چمٹے ہوں تب بھی انہیں قتل کر دو۔“ وہ چار یہ ہیں: عکرمہ بن ابی جہل، ابن خطل، مقیس بن صبابہ اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح۔ ان میں ابن خطل کعبہ کے پردے سے چمٹا مل گیا تو سیدنا عمار بن یاسر اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہما اس کی طرف دوڑے، سیدنا سعید رضی اللہ عنہ ان دونوں میں زیادہ نوجوان تھے اس لیے وہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے آگے نکل گئے اور اسے قتل کر دیا۔ مقیس بن صبابہ کو بازار میں لوگوں نے قتل کر دیا۔ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ سمندر میں سفر پر چلے گئے، جب کشتی ڈوبنے لگی تو لوگ کہنے لگے: ”خالص ہو کر اللہ کو پکارو تمہارے معبود تمہیں نہیں بچا سکتے۔“ تو سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”جو سمندر میں نہیں بچا سکتے تو پھر خشکی پر کیسے بچائیں گے؟“ تو انہوں نے دعا کی: ”اے اللہ! میرا تیرے ساتھ عہد ہے اگر تو نے مجھے عافیت دی تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دوں گا اور ان کو میں درگزر کرنے والا کریم پاؤں گا۔“ تو یہ آئے اور مسلمان ہو گئے۔ اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پناہ لی، وہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے کہ آپ ان کی بیعت کر لیں۔ آپ نے اپنا سر اٹھایا اور تین مرتبہ انکار کیا، پھر بیعت کر لی، پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم میں کوئی سمجھ دار آدمی نہیں ہے؟ میں نے اس سے بیعت کو اس لیے روکا کہ کوئی اسے قتل کر دے۔“ تو انہوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! ہمیں کیا پتا تھا کہ آپ کے دل میں کیا ہے؟ آنکھ سے اشارہ کر دیتے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آنکھ سے اشارہ کرنا کسی نبی کی شان نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16879]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16879 in Urdu