السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3410. -- باب: مال المرتد إذا مات أو قتل على الردة
-- باب: مرتد کے مال کا بیان جب وہ حالتِ ارتداد میں طبعی موت مر جائے یا قتل کر دیا جائے۔
حدیث نمبر: 16893
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا عُبَيْدٌ هُوَ ابْنُ جَنِّادٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَقِيَنِي عَمِّي، وَقَدِ اعْتَقَدَ رَايَةً، فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ، وَآخُذَ مَالَهُ".
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے چچا ملے، انہوں نے جھنڈا باندھ رکھا تھا، میں نے پوچھا: ”کہاں جا رہے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے والد کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے کہ میں اسے قتل کر دوں اور اس کا مال قبضے میں لے لوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16893]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16893 in Urdu