السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3414. -- باب: ما يستدل به على أن السبيل هو جلد الزانيين ورجم الثيب
-- باب: ان دلائل کا بیان کہ (قرآن میں مذکور) ”راستہ“ سے مراد غیر شادی شدہ زانیوں کو کوڑے مارنا اور شادی شدہ کو رجم کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 16913
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: نُبِّئْتُ، عَنِ ابْنِ أَخِي كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ مَرْوَانَ، وَفِينَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ زَيْدٌ: كُنَّا نَقْرَأُ: الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ، قَالَ: فَقَالَ مَرْوَانُ: أَفَلَا نَجْعَلُهُ فِي الْمُصْحَفِ؟ قَالَ: لَا، أَلَا تَرَى الشَّابَّيْنِ الثَّيِّبَيْنِ يُرْجَمَانِ؟ قَالَ: وَقَالَ: ذَكَرُوا ذَلِكَ وَفِينَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَنَا أَشْفِيكُمْ مِنْ ذَاكَ، قَالَ: قُلْنَا: كَيْفَ؟ قَالَ: آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذْكُرُ كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا ذَكَرَ الرَّجْمَ أَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَكْتِبْنِي آيَةَ الرَّجْمِ، قَالَ: فَأتَيْتُهُ فَذَكَّرْتُهُ، قَالَ: فَذَكَرَ آيَةَ الرَّجْمِ، قَالَ: فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَكْتِبْنِي آيَةَ الرَّجْمِ، قَالَ:" لَا أَسْتَطِيعُ ذَاكَ" فِي هَذَا وَمَا قَبْلَهُ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ آيَةَ الرَّجْمِ حُكْمُهَا ثَابِتٌ، وَتِلَاوَتُهَا مَنْسُوخَةٌ وَهَذَا مِمَّا لَا أَعْلَمُ فِيهِ خِلَافًا.
کثیر بن صلت کے بھتیجے کہتے ہیں کہ ہم مروان کے پاس تھے۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے تو زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ہم یوں پڑھا کرتے تھے: «الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ» تو مروان کہنے لگا: کیا ہم اسے مصحف میں نہ لکھ دیں؟ کہا: نہیں۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ دو نوجوان شادی شدہ بھی رجم کیے جاتے ہیں؟ اور ذکر کیا گیا ہے کہ ہم میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے فرمایا: میں تمہیں اس کا شافی جواب دیتا ہوں۔ ہم نے کہا: کیسے؟ فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا اور میں اس طرح اس طرح ذکر کرتا، جب آپ رجم کا ذکر کرتے تو میں کہتا: یا رسول اللہ! مجھے آیتِ رجم لکھوا دیجیے۔ چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو یاد دلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیتِ رجم کا ذکر کیا تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے آیتِ رجم لکھوا دیجیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔“ یہ اور اس سے پہلی دلیل اس بات پر دال ہیں کہ آیتِ رجم کی تلاوت منسوخ ہے، حکم باقی ہے اور میں اس میں کسی کا اختلاف نہیں جانتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16913]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16913 in Urdu