🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3415. -- باب: ما يستدل به على أن جلد المائة ثابت على البكرين الحرين ومنسوخ عن الثيبين، وأن الرجم ثابت على الثيبين الحرين
-- باب: ان دلائل کا بیان کہ سو کوڑے مارنا دو آزاد غیر شادی شدہ افراد پر ثابت ہے اور شادی شدہ سے منسوخ ہے، اور یہ کہ رجم کی سزا دو آزاد شادی شدہ افراد پر ثابت ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q16915
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللهُ لَهُنَّ سَبِيلًا" أَوَّلُ مَا أُنْزِلَ فَنُسِخَ بِهِ الْحَبْسُ وَالْأَذَى عَنِ الزَّانِيَيْنِ، فَلَمَّا رَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاعِزًا وَلَمْ يَجْلِدْهُ، وَأَمَرَ أُنَيْسًا أَنْ يَغْدُوَ عَلَى امْرَأَةِ الْآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا، دَلَّ عَلَى نَسْخِ الْجَلْدِ عَنِ الزَّانِيَيْنِ الْحُرَّيْنِ الثَّيِّبَيْنِ، وَثَبَّتَ الرَّجْمُ عَلَيْهِمَا.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”مجھ سے (یہ حکم) لے لو، اللہ تعالیٰ نے ان (زانی عورتوں) کے لیے راستہ مقرر فرما دیا ہے۔“ سب سے پہلا (حکم) ہے جو نازل ہوا، جس کے ذریعے زنا کرنے والے مرد و عورت سے قید اور ایذا (کی سزا) منسوخ کی گئی، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کو رجم کیا اور انہیں کوڑے نہیں لگائے، اور سیدنا انیس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ صبح دوسرے شخص کی بیوی کے پاس جائیں، پس اگر وہ اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دیں، تو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ شادی شدہ آزاد زانی مرد و عورت سے کوڑوں (کی سزا) منسوخ ہو گئی، اور ان دونوں پر رجم (کی سزا) ثابت رہی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: Q16915]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16915
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أُتِيَ بِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ، رَجُلٍ أَشْعَرَ قَصِيرٍ ذِي عَضَلَاتٍ، فَأَقَرَّ لَهُ بِالزِّنَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَأَتَاهُ مِنْ وَجْهِهِ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، قَالَ: لَا أَدْرِي مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ"، وَقَالَ:" كُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ خَلَفَ أَحَدُهُمْ يَنِبُّ نَبِيبَ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُمَكِّنُنِي مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا جَعَلْتُهُ نَكَالًا عَنْهُنَّ، أَوْ نَكَّلْتُهُ عَنْهُنَّ" قَالَ: فَذَكَرْتُهُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: رَدَّهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ماعز کو لایا گیا، یہ شخص گھنے بالوں اور گھٹے ہوئے جسم کا تھا۔ اس نے زنا کا اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض فرمایا، پھر جب اس نے دو یا تین مرتبہ اعتراف کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے رجم کا حکم دے دیا اور فرمایا: ”جب بھی ہم کسی غزوہ میں نکلتے ہیں تو ان میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے اور بکرے کی طرح آوازیں نکالتا ہے، ان (عورتوں) میں سے کسی کو تھوڑا سا دودھ دیتا ہے؛ اللہ عزوجل ان میں سے جس کسی پر بھی مجھے قدرت عطا فرمائیں گے، میں اسے ضرور (ان عورتوں کے معاملے میں) عبرت کا نشان بنا دوں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16915]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16915 in Urdu