السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3416. -- باب: ما يستدل به على شرائط الإحصان
-- باب: احصان (شادی شدہ ہونے) کی شرائط کے متعلق دلائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 16928
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّائِغُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ طَهِّرْنِي، فَقَالَ:" وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللهَ وَتُبْ إِلَيْهِ" قَالَ: فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ طَهِّرْنِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللهَ وَتُبْ إِلَيْهِ" قَالَ: فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ طَهِّرْنِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِمَّ أُطَهِّرُكَ؟" فَقَالَ: مِنَ الزِّنَا، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبِهِ جُنُونٌ؟" فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ، فَقَالَ:" أَشَرِبَ خَمْرًا؟" فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْكَهَهُ فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ، فَقَالَ ⦗٣٧٣⦘ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَثَيِّبٌ أَنْتَ؟" قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ، فَكَانَ النَّاسُ فِيهِ فَرِيقَيْنِ، تَقُولُ فِرْقَةٌ: لَقَدْ هَلَكَ مَاعِزٌ عَلَى أَسْوَأِ عَمَلِهِ، لَقَدْ أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ، وَقَائِلٌ يَقُولُ: أَتَوْبَةٌ أَفْضَلُ مِنْ تَوْبَةِ مَاعِزٍ أَنْ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ فَقَالَ: اقْتُلْنِي بِالْحِجَارَةِ قَالَ: فَلَبِثُوا بِذَلِكَ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمْ جُلُوسٌ، فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ:" اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ" قَالَ: فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللهُ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؟ قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهَا" قَالَ: ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ مِنَ الْأَزْدِ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ طَهِّرْنِي، قَالَ:" وَيْحَكِ ارْجِعِي فَاسْتَغْفِرِي اللهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ" قَالَتْ: لَعَلَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَرْدُدَنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ؟ قَالَ:" وَمَا ذَاكَ؟" قَالَتْ: إِنَّهَا حُبْلَى مِنَ الزِّنَا، فَقَالَ:" أَثَيِّبٌ أَنْتِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" إِذًا لَا نَرْجُمُكِ حَتَّى تَضَعِي مَا فِي بَطْنِكِ" قَالَ: فَكَفَلَهَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى وَضَعَتْ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قَدْ وَضَعَتِ الْغَامِدِيَّةُ، فَقَالَ:" إِذًا لَا نَرْجُمُهَا وَنَدَعُ وَلَدَهَا صَغِيرًا لَيْسَ لَهُ مَنْ يُرْضِعُهُ" فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: إِلِيَّ رَضَاعُهُ يَا نَبِيَّ اللهِ، فَرَجَمَهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْلَى.
سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کر دیجیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو برباد ہو، جا اللہ سے توبہ کر لے۔“ اس نے تین مرتبہ یہی کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہی جواب دیا۔ جب چوتھی بار اس نے کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کس چیز سے تجھے پاک کروں؟“ اس نے کہا: زنا سے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا پاگل ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا شراب پی ہوئی ہے؟“ ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے اس کا منہ سونگھا تو اس نے شراب بھی نہیں پی ہوئی تھی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم شادی شدہ ہو؟“ اس نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے رجم کر دیا گیا۔ لوگوں کے دو گروہ ہو گئے۔ ایک کہنے لگا: ماعز تو برے عمل پر مرا ہے۔ دوسرے کہنے لگے: اس جیسی توبہ تو کسی کی ہے ہی نہیں کہ اس نے اپنا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں دے دیا، تو وہ بیٹھے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماعز کے لیے استغفار کی دعا کرو۔“ لوگوں نے دعا کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ساری امت پر تقسیم کی جائے تو سب کو کافی ہو جائے۔“ پھر ایک غامدیہ عورت آئی تو اس نے بھی اقرار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی ماعز والا جواب دیا کہ: ”جا توبہ کر لے۔“ تو وہ کہنے لگی: کیا آپ مجھے بھی ماعز کی طرح لوٹانا چاہتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ہے؟“ اس نے جواب دیا کہ وہ زنا سے حاملہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو شادی شدہ ہے؟“ اس نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضع حمل تک ہم تجھے رجم نہیں کر سکتے۔“ تو اس کی کفالت ایک شخص نے کی۔ جب اس نے بچہ جن دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ شخص آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی رجم نہیں کر سکتے، بچے کی پرورش کون کرے گا؟“ تو ایک انصاری رضی اللہ عنہ کھڑا ہوا اور بچے کی پرورش کی ذمہ داری اپنے سر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے رجم کر دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16928]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16928 in Urdu