السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3421. -- باب: المرجوم يغسل ويصلى عليه ثم يدفن
-- باب: رجم کیے گئے شخص کو غسل دیا جائے گا، اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور پھر اسے دفن کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 16954
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو ⦗٣٨٠⦘ الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُلَاثَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ اللَّجْلَاجِ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ اللَّجْلَاجَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا يَعْمَلُ فِي السُّوقِ، فَمَرَّتِ امْرَأَةٌ تَحْمِلُ صَبِيًّا، فَثَارَ النَّاسُ وَثُرْتُ فِيمَنْ ثَارَ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَظُنُّهُ قَالَ: فَقَالَ:" مَنْ أَبُو هَذَا مَعَكِ؟" قَالَ: فَسَكَتَتْ، قَالَ: فَقَالَ شَابٌّ حِذَاءَهَا: أَنَا أَبُوهُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ:" مَنْ أَبُو هَذَا مَعَكِ؟" قَالَ: فَسَكَتَتْ، قَالَ: فَقَالَ الْفَتَى: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهَا حَدِيثَةُ السِّنِّ، حَدِيثَةُ عَهْدٍ بِخِزْيَةٍ، وَلَيْسَتْ مُكَلِّمَتَكَ، فَأَنَا أَبُوهُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَى بَعْضِ مَنْ حَوْلَهُ كَأَنَّهُ يَسْأَلُهُمْ عَنْهُ، فَقَالُوا: مَا عَلِمْنَا إِلَّا خَيْرًا، أَوْ نَحْوَ ذَا، فَقَالَ:" أَحْصَنْتَ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ، قَالَ: فَخَرَجْنَا بِهِ فَحَفَرْنَا لَهُ حَتَّى أَمْكَنَّا، ثُمَّ رَمَيْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى هَدَأَ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى مَجَالِسِنَا، قَالَ: فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ شَيْخٌ يَسْأَلُ عَنِ الْمَرْجُومِ، فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَأَخَذْنَا بِتَلَابِيبِهِ فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا إِنَّ هَذَا جَاءَ يَسْأَلُ عَنِ الْخَبِيثِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَهْ لَهُوَ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" قَالَ: فَانْصَرَفْنَا مَعَ الشَّيْخِ فَإِذَا هُوَ أَبُوهُ، فَأَتَيْنَا إِلَيْهِ فَأَعَنَّاهُ عَلَى غُسْلِهِ وَتَكْفِينِهِ وَدَفْنِهِ، قَالَ: وَلَا أَدْرِي قَالَ: وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ أَمْ لَا وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ امْرَأَةً فَلَمَّا طُفِئَتْ أَخْرَجَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا.
لجلاج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بازار میں بیٹھا کام کر رہا تھا کہ ایک عورت بچے کو اٹھائے ہوئے گزری تو لوگ اس پر جوش میں آ گئے، میں بھی آ گیا۔ میں اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”یہ جو بچہ تیرے پاس ہے اس کا والد کون ہے؟“ وہ خاموش رہی تو ایک نوجوان وہیں سے کھڑا ہوا اور کہنے لگا: میں اس کا باپ ہوں یا رسول اللہ!۔ پھر اس عورت سے وہی پوچھا کہ اس کا باپ کون ہے؟ تو وہ نوجوان کہنے لگا: یا رسول اللہ! میں ہوں۔ یہ نو عمر ہے، یہ آپ سے بات نہیں کرے گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارد گرد بیٹھے لوگوں کی طرف دیکھا، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں ان سے پوچھ رہے ہوں تو لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے تو اسے بڑا بہترین پایا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”شادی شدہ ہو؟“ اس نے کہا: ہاں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے رجم کا حکم دیا تو ہم نے گڑھا کھود کر اسے رجم کر دیا اور اپنی مجالس میں پھر آ گئے تو ایک بوڑھا آدمی آیا اور اس رجم کیے ہوئے کے بارے میں پوچھنے لگا تو ہم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ اس خبیث کے بارے میں پوچھ رہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رک جاؤ، وہ اللہ کے ہاں کستوری سے زیادہ خوشبو دار ہے۔“ کہتے ہیں: ہم اس شیخ کے ساتھ واپس آئے تو پتہ چلا کہ یہ اس کا باپ تھا، تو ہم نے اس کے غسل، کفن، دفن میں اس کی مدد کی۔ کہتے ہیں: نماز کا مجھے یاد نہیں کہ پڑھی تھی کہ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16954]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16954 in Urdu