🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3422. -- باب: من أجاز أن لا يحضر الإمام المرجومين ولا الشهود
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جنہوں نے اس بات کو جائز قرار دیا ہے کہ رجم کیے جانے والوں کے پاس نہ امام حاضر ہو اور نہ ہی گواہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16958
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَيْسَانَ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ يَعْنِي ابْنَ هَزَّالٍ الْأَسْلَمِيَّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ فِيَّ كِتَابَ اللهِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ فِيَّ كِتَابَ اللهِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، حَتَّى ذَكَرَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ:" اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ" فَلَمَّا مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ جَزِعَ فَاشْتَدَّ، فَخَرَجَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُنَيْسٍ مِنْ بَادِيَتِهِ فَرَمَاهُ بِوَظِيفِ حِمَارٍ فَصَرَعَهُ، وَرَمَاهُ النَّاسُ حَتَّى قَتَلُوهُ، فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرَارَهُ فَقَالَ:" هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ، فَلَعَلَّهُ يَتُوبُ فَيَتُوبَ اللهُ عَلَيْهِ، يَا هَزَّالُ لَوْ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا لَكَ مِمَّا صَنَعْتَ" وَقَالَ غَيْرُهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ بِوَظِيفِ بَعِيرٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بِلَحْيِ بَعِيرٍ.
نعیم بن ہزال اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ماعز رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ میں نے زنا کر لیا ہے، مجھ پر کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اعراض کیا یہاں تک کہ انہوں نے چار مرتبہ اعتراف کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اسے رجم کر دو۔“ جب ان پر پتھر پڑے تو وہ تکلیف سے بھاگے تو عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے انہیں گدھے کی پنڈلی کی ہڈی ماری تو وہ گر پڑے اور لوگوں نے بھی مارے یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ جب ان کے بھاگنے کی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا کہ وہ اللہ سے توبہ کر لیتا اور اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا۔ اے ہزال! اگر تو اسے کپڑے سے ڈھانپ لیتا تو تیرے لیے یہ زیادہ بہتر تھا اس سے جو تو نے کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16958]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16958 in Urdu