السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3424. -- باب: ما جاء في حفر المرجوم والمرجومة
-- باب: رجم کیے جانے والے مرد اور عورت کے لیے گڑھا کھودنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16966
وَعَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ طَهِّرْنِي فَإِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، فَقَالَ لَهَا نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعِي" فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَيْضًا اعْتَرَفَتْ عِنْدَهُ بِالزِّنَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ طَهِّرْنِي، فَلَعَلَّكَ أَنْ تَرْدُدَنِي كَمَا رَدَدْتَ ابْنَ مَالِكٍ الْأَسْلَمِيَّ، فَوَاللهِ إِنِّي لَحُبْلَى، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعِي حَتَّى تَلِدِي" فَلَمَّا وَلَدَتْهُ جَاءَتْهُ بِالصَّبِيِّ تَحْمِلُهُ فِي خِرْقَةٍ قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ هَذَا قَدْ وَلَدْتُ، فَقَالَ لَهَا نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ" فَلَمَّا فَطَمَتْهُ جَاءَتْ بِالصَّبِيِّ فِي يَدِهِ كِسْرَةُ خُبْزٍ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ هَذَا قَدْ فَطَمْتُهُ، هَذَا هُوَ يَأْكُلُ، فَأَمَرَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَفْعِهِ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا حُفْرَةٌ، فَجُعِلَتْ فِيهَا إِلَى صَدْرِهَا، ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهَا، فَأَقْبَلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، يَعْنِي بِحَجَرٍ، فَرَمَى رَأْسَهَا فَتَنَضَّخَ عَلَى وَجْنَةِ خَالِدٍ فَسَبَّهَا، فَسَمِعَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّهُ إِيَّاهَا فَقَالَ:" مَهْلًا يَا خَالِدُ بْنَ الْوَلِيدِ لَا تَسُبَّهَا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ" فَأَمَرَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُهَاجِرٍ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ إِثْبَاتُ الْحَفْرِ لِلرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ جَمِيعًا وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ اللَّجْلَاجِ فِي قِصَّةِ الشَّابِّ الْمُحْصِنِ الَّذِي اعْتَرَفَ بِالزِّنَا، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرْجَمُ، قَالَ: فَخَرَجْنَا بِهِ فَحَفَرْنَا لَهُ حَتَّى أَمْكَنَّا، ثُمَّ رَمَيْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى هَدَأَ وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي قِصَّةِ الْجُهَنِيَّةِ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، وَفِي رِوَايَةٍ فَشُدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أُمِرَ بِهَا فَرُجِمَتْ.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک غامدیہ عورت رضی اللہ عنہا آئیں اور کہنے لگیں: ”یا رسول اللہ! مجھے پاک کر دیجیے، میں نے زنا کر لیا ہے“، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس چلی جا۔“ تو وہ کہنے لگی کہ جس طرح آپ سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کو واپس بھیج رہے تھے، مجھے بھی اسی طرح بھیج رہے ہیں، واللہ! میں حاملہ ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس چلی جا یہاں تک کہ تو اسے جن دے۔“ جب اس نے بچہ جن دیا تو وہ اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر لے آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر رجم کا مطالبہ کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جا، دودھ پلا یہاں تک کہ یہ کھانا کھانے لگے۔“ کچھ عرصے بعد پھر وہ آ گئیں تو بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بچہ ایک شخص کے حوالے کیا اور اس عورت کے لیے حکم دیا گیا کہ گڑھا کھودا جائے اور سینے تک عورت کو اس میں گاڑا گیا اور پھر لوگوں کو حکم دیا کہ اسے رجم کر دیں، تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ایک پتھر مارا جس کے خون کے چھینٹے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے اوپر پڑے تو انہوں نے اسے برا بھلا کہا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چپ ہو جاؤ خالد! اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ظالمانہ ٹیکس لگانے والے پر کی جائے تو اسے بھی معاف کر دیا جائے۔“ پھر حکم دیا اور اس کے اوپر نماز پڑھی گئی اور وہ دفن کی گئیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16966]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16966 in Urdu