🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3426. -- باب: ما جاء في نفي المخنثين
-- باب: مخنثوں (ہیجڑوں) کو جلاوطن کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16983
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، قَالَ: كَانَ الْمُخَنَّثُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةً: مَاتِعٌ وَهَدْمٌ وَهِيتٌ، وَكَانَ مَاتِعٌ لِفَاخِتَةَ بِنْتِ عَمْرِو بْنِ عَائِذٍ خَالَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يَغْشَى بُيُوتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَدْخُلُ عَلَيْهِنَّ، حَتَّى إِذَا حَاصَرَ الطَّائِفَ سَمِعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ لِخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ: إِنِ افْتُتِحَتِ الطَّائِفُ غَدًا فَلَا تَنْفَلِتَنَّ مِنْكَ بَادِيَةُ بِنْتُ غَيْلَانَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا أَرَى هَذَا الْخَبِيثَ يَفْطِنُ لِهَذَا، لَا يَدْخُلُ عَلَيْكُنَّ بَعْدَ هَذَا" لِنِسَائِهِ، قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا، ⦗٣٩١⦘ حَتَّى إِذَا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَالَ:" لَا يَدْخُلَنَّ الْمَدِينَةَ" وَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَكُلِّمَ فِيهِ وَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ مِسْكِينٌ، وَلَا بُدَّ لَهُ مِنْ شَيْءٍ، فَجَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِي كُلِّ سَبْتٍ يَدْخُلُ فَيَسْأَلُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ عَهْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعَلَى عَهْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَنَفَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبَيْهِ مَعَهُ هَدْمٌ وَالْآخَرُ هِيتٌ.
موسیٰ بن عبدالرحمن بن عیاش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عہدِ رسالت میں تین مخنث تھے: ماتع، ہدم اور ہیت۔ جو ماتع تھا یہ سیدہ فاختہ بنت عمرو رضی اللہ عنہا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خالہ تھیں ان کے پاس رہتا تھا، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں بھی آتا جاتا تھا۔ جب طائف کا موقع آیا تو یہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو کہنے لگا کہ اگر اللہ تمہیں طائف پر غلبہ دے دے تو غیلان کی بیٹی کو پکڑ لینا، وہ آتی ہے چار کے ساتھ اور جاتی ہے آٹھ کے ساتھ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا: ”مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ خبیث اس طرح کی باتیں بھی دیکھتے ہیں۔ آج کے بعد یہ گھروں میں نہ آئیں۔“ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے، ذی الحلیفہ نامی جگہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مدینہ میں داخل نہ ہوں۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں داخل ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا گیا: یہ مسکین ہے، اسے آنے دیں اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہفتے میں ایک دن ان کے لیے اجازت دے دی کہ وہ آئیں اور اپنی ضرورت کی چیزیں لیں اور چلے جائیں۔ عہدِ صدیقی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی اسی طرح رہا اور اس کے ساتھ ہدم اور ہیت کو بھی جلا وطن کر دیا گیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16983]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16983 in Urdu