السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
333. -- جماع أبواب المواقيت
-- نماز کے اوقات کے متعلق ابواب کا جامع بیان
حدیث نمبر: 1699
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ثنا السِّرِّيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ، ح. وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الصَّفَّارُ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَزَلَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: بِهَذَا أُمِرْتُ؟ فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ: انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ يَا عُرْوَةُ أَوْ أَنَّ جِبْرِيلَ هُوَ أَقَامَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقْتَ الصَّلَاةِ فَقَالَ عُرْوَةُ: كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عُرْوَةُ: وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ایک نماز کو مؤخر کر دیا، ان کے پاس عروہ بن زبیر رحمہ اللہ تشریف لائے، انہوں نے خبر دی کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن کوفہ میں نماز مؤخر کر دی، اس پر سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور کہا: اے مغیرہ! یہ کیا ہے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے، انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے کہا: ”اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔“ سیدنا عمر رحمہ اللہ نے عروہ رحمہ اللہ سے کہا: اے عروہ! دیکھ تو کیا بیان کر رہا ہے، کیا جبرائیل علیہ السلام ہی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز کا وقت مقرر کیا تھا؟ عروہ رحمہ اللہ نے کہا: اسی طرح بشیر بن ابی مسعود رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں۔ عروہ رحمہ اللہ نے کہا: مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے اور سورج ظاہر ہونے سے پہلے ان کے کمرے میں ہوتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1699]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 499»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1699 in Urdu