السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
333. -- جماع أبواب المواقيت
-- نماز کے اوقات کے متعلق ابواب کا جامع بیان
حدیث نمبر: 1701
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَأَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ⦗٥٣٥⦘ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَعْلَمُ مَا تَقُولُ فَقَالَ عُرْوَةُ: سَمِعْتَ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَخْبَرَنِي بِوَقْتِ الصَّلَاةِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ يَحْسِبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ" وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَهَا الصُّفْرَةُ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ مِنَ الصَّلَاةِ فَيَأْتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ حِينَ يَسْوَدُّ الْأُفُقُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّاسُ وَصَلَّى الصُّبْحَ بِغَلَسٍ ثُمَّ صَلَّى مَرَّةً أُخْرَى فَأَسْفَرَ بِهَا ثُمَّ كَانَتْ صَلَاتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِغَلَسٍ حَتَّى مَاتَ لَمْ يَعْدُ إِلَى أَنْ يُسْفِرَ" وَتَفْسِيرُ كَيْفِيَّةِ صَلَاةِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ وَهُوَ فِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَغَيْرِهِ.
سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ منبر پر بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے عصر کو کچھ مؤخر کر دیا، ان سے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے کہا: جبرائیل علیہ السلام نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے وقت کی خبر دی ہے، ان سے سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: غور کر تو کیا کہہ رہا ہے؟ عروہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابی مسعود انصاری رحمہ اللہ سے سنا، وہ اپنے والد (سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے نماز کے وقت کی خبر دی، میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی۔“ اپنی انگلیوں پر پانچ نمازیں شمار کرتے تھے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز تب پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا اور بعض اوقات اس کو مؤخر کر دیتے جس وقت گرمی سخت ہو جاتی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے اور سورج زردی کے داخل ہونے سے پہلے بلند و سفید تھا، آدمی نماز سے پلٹتا تو سورج غروب ہونے سے پہلے ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہو جاتا اور عشاء کی نماز اس وقت پڑھتے جب افق سیاہ ہو جاتا اور بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مؤخر کیا، یہاں تک کہ لوگ جمع ہو جاتے اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھتے، پھر ایک مرتبہ نماز روشنی میں پڑھی، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اندھیرے میں ہوتی تھی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ نہیں لوٹے کہ اس کو روشن کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1701]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 1394»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1701 in Urdu