السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
335. -- باب: آخر وقت الظهر وأول وقت العصر
-- باب: ظہر کے آخری وقت اور عصر کے اول وقت کا بیان
حدیث نمبر: 1713
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ ثنا وَكِيعٌ ثنا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ عَنْ أَبِيهِ، وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ثنا وَكِيعٌ عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، سَمِعَهُ مِنْهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ سَائِلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ فَصَلَّى، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ وَالْقَائِلُ يَقُولُ: قَدْ زَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَزُلْ وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ، قَالَ: ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ وَالْقَائِلُ يَقُولُ: قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَطْلُعْ وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ، وَصَلَّى الظُّهْرَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ، وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالْقَائِلُ يَقُولُ، قَدِ احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُلُثَ اللَّيْلِ الْأَوَّلَ ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوَقْتِ؟ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ وَقْتٌ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ بِلَالِ بْنِ عُثْمَانَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: ثُمَّ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ وَفِي ذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى صِحَّةِ تَأْوِيلِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى.
(الف) ابوبکر بن ابوموسیٰ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اقامت کہی جس وقت فجر پھوٹ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا، انہوں نے ظہر کی اقامت کہی اور کوئی شخص کہہ رہا تھا کہ سورج ڈھل گیا یا نہیں ڈھلا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے زیادہ جاننے والے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی اور سورج بلند تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، جس وقت سورج غروب ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی سرخی کے غروب ہونے کے وقت۔ پھر کل کو صبح کی نماز پڑھی اور کہنے والا کہہ رہا تھا کہ سورج طلوع ہوا یا نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے زیادہ جاننے والے تھے اور اگلے دن ظہر کی نماز گزشتہ کل کے عصر کے وقت کے قریب پڑھائی اور عصر کی نماز پڑھائی اور کہنے والا کہہ رہا تھا کہ سورج سرخ ہو گیا اور سرخی غروب ہونے سے پہلے مغرب کی نماز پڑھائی اور عشاء کی نماز پہلی تہائی رات کے وقت پڑھائی، پھر فرمایا: ”وقت کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ان دونوں وقتوں کے درمیان وقت نماز کا وقت ہے۔“
(ب) صحیح مسلم میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر مؤخر کی یہاں تک کہ گزشتہ کل کے عصر کے وقت کے قریب ادا فرمائی۔
(ج) اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کی تاویل کے صحیح ہونے پر دلیل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1713]
(ب) صحیح مسلم میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر مؤخر کی یہاں تک کہ گزشتہ کل کے عصر کے وقت کے قریب ادا فرمائی۔
(ج) اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کی تاویل کے صحیح ہونے پر دلیل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1713]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 1613»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1713 in Urdu