السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3455. -- باب: من قال: لا حد إلا في القذف الصريح
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک صرف صریح تہمت لگانے پر ہی حد واجب ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 17141
اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ ⦗٤٣٩⦘ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، قَالَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" مَا أَلْوَانُهَا؟" قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ:" هَلْ فِيهَا أَوْرَقُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" مِمَّ ذَاكَ؟" قَالَ: ذَاكَ عِرْقٌ نَزَعَهُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلَعَلَّ ابْنَكَ نَزَعَهُ عِرْقٌ" لَفْظُ حَدِيثِ الْأَسْفَاطِيِّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا کہ میری بیوی نے ایک سیاہ بچے کو جنم دیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ان کا رنگ کیسا ہے؟“ اس نے کہا: سرخ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کہاں سے آیا ہے؟“ اس نے کہا: اسے کسی رگ نے کھینچا ہو گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمہارے اس بیٹے کو بھی کسی رگ نے کھینچنا ہو گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17141]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17141 in Urdu