🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3461. -- باب: اختلاف الناقلين في ثمن المجن، وما يصح منه وما لا يصح
-- باب: ڈھال کی قیمت بیان کرنے والے راویوں کے اختلاف، اور اس میں سے جو صحیح ہے اور جو صحیح نہیں ہے، اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17175
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قُلْتُ لِبَعْضِ النَّاسِ:" هَذِهِ سُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطَعَ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا"، فَكَيْفَ قُلْتَ: لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي عَشَرَةِ دَرَاهِمَ فَصَاعِدًا؟ وَمَا حُجَّتُكَ فِي ذَلِكَ؟ قَالَ: قَدْ رُوِّينَا عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَيْمَنَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبِيهًا بِقَوْلِنَا، قُلْتُ: أَتَعْرِفُ أَيْمَنَ؟ إِنَّمَا أَيْمَنُ الَّذِي رَوَى عَنْهُ عَطَاءٌ فَرَجُلٌ حَدَثٌ، لَعَلَّهُ أَصْغَرُ مِنْ عَطَاءٍ، وَرَوَى عَنْهُ عَطَاءٌ حَدِيثًا عَنْ تَبِيعٍ ابْنِ امْرَأَةِ كَعْبٍ، عَنْ كَعْبٍ، فَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَالْحَدِيثُ الْمُنْقَطِعُ لَا يَكُونُ حُجَّةً، قَالَ: فَقَدْ رَوَى شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَيْمَنَ ابْنِ أُمِّ أَيْمَنَ، أَخِي أُسَامَةَ لِأُمِّهِ، قُلْتُ: لَا عِلْمَ لَكَ بِأَصْحَابِنَا، أَيْمَنُ أَخُو أُسَامَةَ قُتِلَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَبْلَ أَنْ يُولَدَ مُجَاهِدٌ، وَلَمْ يَبْقَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُحَدِّثَ عَنْهُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَالَّذِي أَشَارَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ رِوَايَةِ عَطَاءٍ، عَنْ أَيْمَنَ، غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے بعض لوگوں سے کہا: ”سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہے کہ چوتھائی دینار یا اس سے زائد میں ہاتھ کاٹا جائے، تو آپ کیسے کہتے ہیں کہ دس دراہم یا اس سے زیادہ ہی میں ہاتھ کاٹا جائے گا؟ آپ کی اس پر دلیل کیا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: ہم نے شریک سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ایمن سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے قول جیسی روایت نقل کی ہے۔ میں نے کہا: ”کیا تم جانتے ہو ایمن کون ہے؟ وہ ایمن جن سے عطاء روایت کرتے ہیں، ایک نوعمر آدمی تھے، شاید عطاء سے بھی چھوٹے، اور عطاء نے ان سے، انہوں نے تبیع (کعب کی بیوی کے بیٹے) سے اور انہوں نے کعب سے ایک حدیث روایت کی ہے، لہٰذا یہ منقطع ہے اور منقطع حدیث حجت نہیں ہوتی۔“ انہوں نے کہا: شریک بن عبداللہ نے اسے مجاہد سے، انہوں نے ایمن بن ام ایمن سے روایت کیا ہے جو اسامہ کے ماں جائے بھائی تھے۔ میں نے کہا: ”تمہیں ہمارے اصحاب کا علم نہیں، اسامہ کے بھائی ایمن تو حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شہید ہو گئے تھے، مجاہد کی پیدائش سے بھی پہلے، اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ ہی نہیں رہے کہ آپ سے روایت کرتے۔“
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ نے عطاء کی ایمن سے جس روایت کی طرف اشارہ کیا ہے وہ اس حدیث کے علاوہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17175]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ للشافعي»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17175 in Urdu