🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
338. -- باب: وقت المغرب
-- باب: مغرب کے وقت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1719
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزَيَّانِ قَالَا: أنا أَبُو الْمُوَجَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ، ثنا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُبَارَكٍ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، أنا وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ثنا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ:" قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ فَجَاءَهُ فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ فَقَامَ فَصَلَّاهَا حِينَ غَابَتْ سَوَاءً ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى ذَهَبَ الشَّفَقُ فَجَاءَهُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ فَقَامَ فَصَلَّاهَا ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ لِلصُّبْحِ فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَيْهِ فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ الْمَغْرِبُ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ يَزَلْ عَنْهُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ ثُمَّ جَاءَهُ ⦗٥٤٢⦘ الْعِشَاءُ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ ثُمَّ جَاءَهُ الصُّبْحُ حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الصُّبْحَ ثُمَّ قَالَ: مَا بَيْنَ هَذَيْنِ كُلُّهُ وَقْتٌ" وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس وقت سورج ڈھل چکا تھا، انہوں نے کہا: ”اے محمد! کھڑے ہوں، ظہر کی نماز پڑھیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ آدمی کا سایہ اس کی مثل ہو گیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کھڑے ہوں، عصر کی نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور عصر کی نماز پڑھائی، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سورج غائب ہو گیا، پھر جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ”کھڑے ہوں، مغرب کی نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی جس وقت سورج مکمل غائب ہو گیا، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سرخی چلی گئی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”کھڑے ہوں، عشا کی نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس وقت فجر صبح کے لیے طلوع ہونے لگی اور کہا: ”اے محمد! کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور صبح کی نماز پڑھائی، پھر دوسرے روز آئے جس وقت آدمی کا سایہ اس کی مثل ہو گیا تھا، انہوں نے کہا: ”اے محمد! کھڑے ہوں، ظہر کی نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ظہر کی نماز پڑھی، پھر آئے جس وقت آدمی کا سایہ اس کی دو مثل ہو گیا تھا، انہوں نے کہا: ”اے محمد! کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور عصر کی نماز پڑھی، پھر مغرب کو ایک ہی وقت میں آئے جس وقت سورج غائب ہو گیا، انہوں نے کہا: ”کھڑے ہوں، مغرب کی نماز پڑھیں“، پھر عشا کو آئے جس وقت رات کا پہلا تہائی حصہ چلا گیا اور کہا: ”کھڑے ہوں، عشا کی نماز پڑھیں“، پھر صبح کو آئے جس وقت خوب روشنی ہو گئی، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ”کھڑے ہوں، صبح کی نماز پڑھیں“، پھر فرمایا: ”ان دونوں وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1719]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه النسائي 526»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1719 in Urdu