🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3474. -- باب: السارق يعود فيسرق ثانيا وثالثا ورابعا
-- باب: چور کا دوسری، تیسری اور چوتھی مرتبہ چوری کرنے کے احکامات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17261
وَفِيمَا أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، فِيمَا لَمْ يُمْلِ مِنْ كِتَابِ الْمُسْتَدْرَكِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَاطِبٍ، أَنَّ رَجُلًا سَرَقَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اقْتُلُوهُ"، فَقَالُوا: إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ:" فَاقْطَعُوهُ"، ثُمَّ سَرَقَ أَيْضًا فَقُطِعَ، ثُمَّ سَرَقَ عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُطِعَ، ثُمَّ سَرَقَ فَقُطِعَ، حَتَّى قُطِعَتْ قَوَائِمُهُ، ثُمَّ سَرَقَ الْخَامِسَةَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمَ بِهَذَا حِينَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ، اذْهَبُوا بِهِ فَاقْتُلُوهُ، فَدُفِعَ إِلَى فِتْيَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَمِّرُونِي عَلَيْكُمْ، فَأَمَّرُوهُ، فَكَانَ إِذَا ضَرَبَهُ ضَرَبُوهُ حَتَّى قَتَلُوهُ تَابَعَهُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ.
سیدنا حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چوری کی۔ اس آدمی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ انہوں نے عرض کیا: اس نے تو صرف چوری کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کے ہاتھ کاٹ دو۔“ پھر اس نے دوبارہ چوری کی تو کاٹا گیا۔ پھر اس نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں چوری کی تو کاٹا گیا، پھر چوری کی تو کاٹا گیا، یہاں تک کہ اس کے سب ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے۔ پھر اس نے پانچویں مرتبہ چوری کی تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں زیادہ جانتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا تھا، اسے لے جاؤ اور قتل کر دو۔“ چنانچہ اسے قریش کے چند نوجوانوں کے حوالے کیا گیا جن میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے اپنا امیر بنا لو، تو انہوں نے انہیں امیر بنا لیا، چنانچہ جب وہ اسے مارتے تو وہ سب بھی اسے مارتے، یہاں تک کہ انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17261]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17261 in Urdu