🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3493. -- باب: الدليل على أن الطبخ لا يخرج هذه الأشربة من دخولها في الاسم، والتحريم إذا كانت مسكرة
-- باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ ان مشروبات کو پکانا انہیں شراب کے نام میں شامل ہونے سے خارج نہیں کرتا، اور اگر وہ نشہ آور ہوں تو ان کی حرمت برقرار رہتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17388
وَيُرْوَى عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ قَالَ:" نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، وَمَا كَانَتْ غَيْرُ فَضِيخِكُمْ هَذَا"، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنِيهِ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: فَإِنْ كَانَ مَعَ الْبُسْرِ تَمْرٌ فَهُوَ الَّذِي يُسَمَّى الْخَلِيطَيْنِ، وَكَذَلِكَ إِنْ كَانَ زَبِيبًا وَتَمْرًا فَهُوَ مِثْلُهُ وَمِنَ الْأَشْرِبَةِ: الْمَنْصَفُ، وَهُوَ أَنْ يُطْبَخَ عَصِيرُ الْعِنَبِ قَبْلَ أَنْ يَغْلِيَ حَتَّى يَذْهَبَ نِصْفُهُ، وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّهُ يُسْكِرُ، فَإِنْ كَانَ يُسْكِرُ فَهُوَ حَرَامٌ، وَإِنْ طُبِخَ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثَاهُ وَيَبْقَى ثُلُثُهُ فَهُوَ الطِّلَاءُ، وَإِنَّمَا سُمِّيَ بِذَلِكَ لِأَنَّهُ شُبِّهُ بِطِلَاءِ الْإِبِلِ فِي ثِخَنِهِ وَسَوَادِهِ، وَبَعْضُ الْعَرَبِ يَجْعَلُ الطِّلَاءَ الْخَمْرَ بِعَيْنِهَا، يُرْوَى أَنَّ عَبِيدَ بْنَ الْأَبْرَصِ قَالَ فِي مَثَلٍ لَهُ:.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: شراب کی حرمت نازل ہوئی اور اس وقت تمہاری اس فضیخ کے سوا کوئی شراب نہ تھی۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر خشک اور تر کھجور ملا کر شراب بنائی جائے تو اس کا نام «خَلِيْطَيْنِ» ”خلیطین“ ہوتا ہے اور منقیٰ اور کھجور بھی اسی طرح ہے۔ ایسے ہی ایک مشروب «مُنَصَّف» ”منصف“ بھی ہے، وہ یہ کہ انگور کے رس کو پکایا جاتا ہے، اس کے خراب ہونے سے پہلے یہاں تک کہ وہ آدھا رہ جاتا ہے اور مجھے یہ بات پتا چلی ہے کہ اس میں نشہ پیدا ہو جاتا ہے تو پھر یہ حرام ہے۔ اگر اس کو پکانے کے بعد اس کا تیسرا حصہ بچے تو یہ «طِلَاء» ”طلاء“ ہوتا ہے، اونٹوں کے طلاء جیسا جو گاڑھا ہوتا ہے اور سیاہ ہوتا ہے اور بعض عرب «طِلَاء» ”طلاء“ کو بعینہٖ شراب ہی قرار دیتے ہیں۔ عبید بن ابرص نے اسی بارے میں یہ شعر کہا ہے:
یہ شراب کی کنیت طلاء رکھتے ہیں
جیسے بھیڑیے کی کنیت ابو جعدہ رکھی جاتی ہے
یہ سارے مشروبات جو «خَمْر» ”خمر“ کے نام سے کنایہ ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں داخل ہیں: ”میری امت کے لوگ شراب پییں گے لیکن اس کا نام دوسرا رکھ دیں گے“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو بھی عقل کو ڈھانپے وہ شراب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17388]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17388 in Urdu