السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3496. -- باب: ما جاء في صفة نبيذهم الذي كانوا يشربونه في حديث أنس بن مالك وغيره عن النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه
-- باب: انس بن مالک اور دیگر صحابہ کی احادیث کی روشنی میں نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کے اس نبیذ (مشروب) کی صفت کا بیان جو وہ پیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 17423
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا ضَمْرَةُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ عَلِمْتَ مَنْ نَحْنُ، وَمِنْ أَيْنَ نَحْنُ، فَإِلَى مَنْ نَحْنُ؟ قَالَ:" إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِلَى رَسُولِهِ"، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لَنَا أَعْنَابًا مَا نَصْنَعُ بِهَا؟ قَالَ:" زَبِّبُوهَا"، قُلْنَا: مَا نَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ؟ قَالَ:" انْبِذُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ، وَانْبِذُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ ⦗٥٢٢⦘ وَاشْرَبُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ، وَانْبِذُوهُ فِي الشِّنَانِ، وَلَا تَنْبِذُوهُ فِي الْقُلَلِ، فَإِنَّهُ إِذَا تَأَخَّرَ عَنْ عَصْرِهِ صَارَ خَلًّا".
(١٧٤٢٣) عبداللہ بن دیلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! آپ جانتے ہیں ہم کون ہیں، کہاں سے ہیں اور کس کے پاس آئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کی طرف۔ تو ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے انگور ہوتے ہیں، ہم ان کا کیا کریں؟ فرمایا: منقہ بنا لو ہم نے کہا: منقہ کا کیا کریں فرمایا: صبح نبیذ بنا کر شام کو پی لو اور شام کو بنا کر صبح پی لو اور چھوٹے برتنوں میں نبیذ بناؤ۔ بڑے بڑے مٹکوں میں نہ بنانا کیونکہ اگر تم اس میں چھوڑ دو گے تو اس میں نشہ پیدا ہوجائے گا جو حرام ہوگا اور اگر نشہ نہ ہو تو سرکہ بن جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17423]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17423 in Urdu