🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3496. -- باب: ما جاء في صفة نبيذهم الذي كانوا يشربونه في حديث أنس بن مالك وغيره عن النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه
-- باب: انس بن مالک اور دیگر صحابہ کی احادیث کی روشنی میں نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کے اس نبیذ (مشروب) کی صفت کا بیان جو وہ پیا کرتے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17425
وَذَلِكَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَوْفِ بْنِ سَلَامَةَ، أَخْبَرَاهُ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ قَدِمَ الشَّامَ فَشَكَا إِلَيْهِ أَهْلُ الشَّامِ وَبَاءَ الْأَرْضِ وَثِقَلَهَا، وَقَالُوا: لَا يُصْلِحُنَا إِلَّا هَذَا الشَّرَابُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اشْرَبُوا الْعَسَلَ، فَقَالُوا: لَا يُصْلِحُنَا الْعَسَلُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ: هَلْ لَكَ أَنْ نَجْعَلَ لَكَ مِنْ هَذَا الشَّرَابِ شَيْئًا لَا يُسْكِرُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَطَبَخُوهُ حَتَّى ذَهَبَ مِنْهُ الثُّلُثَانِ وَبَقِيَ الثُّلُثُ، فَأَتَوْا بِهِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَدْخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهِ أُصْبُعَهُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ، فَتَبِعَهَا يَتَمَطَّطُ، فَقَالَ: هَذَا الطِّلَاءُ، هَذَا مِثْلُ طِلَاءِ الْإِبِلِ، فَأَمَرَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَشْرَبُوهُ، فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: أَحْلَلْتَهَا وَاللهِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَلَّا وَاللهِ، اللهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّ لَهُمْ شَيْئًا حَرَّمْتَهُ عَلَيْهِمْ، وَلَا أُحَرِّمُ عَلَيْهِمْ شَيْئًا أَحْلَلْتَهُ لَهُمْ.
(١٧٤٢٥) محمود بن لبید انصاری کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام آئے تو اہل شام نے وہاں کی بیماریوں کی شکایت کی اور کہا کہ ہماری اصلاح صرف اس پینے سے ہوسکتی ہے تو فرمایا: شہد پیا کرو تو بولے: شہد سے ہم ٹھیک نہیں ہوں گے۔ ایک شخص کہنے لگا کہ وہ مشروب ہم آپ کے لیے بنائیں کہ اس میں نشہ نہیں ہوتا؟ فرمایا: ہاں تو انھوں نے اسے اتنا پکایا کہ اس کا دو تہائی ختم ہوگیا۔ صرف ثلث بچا تو وہ آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے اپنی انگلی اس میں داخل فرمائی اور پھر اسے باہر نکالا تو وہ ربڑ کی طرح آپ کی انگلی سے بہہ رہا تھا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ تو اونٹوں کے طلاء کی طرح ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں اس کی اجازت دے دی۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ واللہ! کیا آپ نے یہ حلال کردیا؟ فرمایا: واللہ نہیں جو چیز آپ نے اس کے لیے حرام کی ہے میں اس کو حلال اور جو حلال کی ہے میں اس کو حرام نہیں کرسکتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17425]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17425 in Urdu