السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3497. -- باب: ما جاء في الكسر بالماء
-- باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17431
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيذِ عَبْدُ الْقَيْسِ، أَتَوْهُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا بِأَرْضِ رِيفٍ، وَإِنَّا نُصِيبُ مِنَ الْبَقْلِ، فَأْمُرْنَا بِشَرَابٍ، فَقَالَ:" اشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ، وَلَا تَشْرَبُوا فِي الْجَرِّ، وَلَا فِي الدُّبَّاءِ، وَلَا الْمُزَفَّتِ، وَلَا النَّقِيرِ، وَإِنِّي نَهَيْتُ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَالْكُوبَةِ، وَهِيَ الطَّبْلُ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَإِذَا اشْتَدَّ؟ قَالَ: فَقَالَ:" صُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ" قَال: فَإِذَا اشْتَدَّ؟ قَالَ:" صُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ" قَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ:" فَإِذَا اشْتَدَّ فَاهَرِيقُوهُ" خَالَفَهُ أَبُو جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذِكْرُ الْكَسْرِ بِالْمَاءِ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے نبیذ کے بارے میں بنو عبدالقیس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ وہ آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہم کھیتی باڑی والی زمین میں رہتے ہیں اور ہمیں اسی سے پھل حاصل ہوتا ہے تو ہمیں مشروبات کے بارے میں بتائیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پینے والے برتنوں میں پیو اور مٹی کے گھڑے، کدو کے برتن، لکڑی کے برتن اور تارکول سے بنے برتن میں نہ پیو اور مجھے شراب، جوئے اور طبلہ سے منع کیا گیا ہے اور ہر نشہ آور چیز بھی منع ہے۔“ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر وہ بہت زیادہ گاڑھا ہوجائے تو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی اس میں ملا دو۔“ پھر انھوں نے یہی سوال کیا تو آپ نے پھر یہی جواب دیا۔ پھر جب تیسری یا چوتھی مرتبہ جب یہی سوال دہرایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ بہت سخت ہوجائے تو اسے انڈیل دو۔“
ابو جمرہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرنے میں اس کی مخالفت کی ہے، چنانچہ پانی ملانے کا ذکر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17431]
ابو جمرہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرنے میں اس کی مخالفت کی ہے، چنانچہ پانی ملانے کا ذکر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17431]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17431 in Urdu