السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3497. -- باب: ما جاء في الكسر بالماء
-- باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17433
وَفِيمَا بَلَغَ حَدَّ الْإِسْكَارِ وَرَدَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ، ⦗٥٢٦⦘ فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ فِي دُبَّاءٍ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِهِ، فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ، فَقَالَ:" اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ، فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے پتا چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہیں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی افطاری کی تیاری کی اور کدو کے برتن میں نبیذ بنایا، پھر میں اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا اور اس میں جھاگ بنی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس دیوار کے ساتھ مار دو، یہ تو ان کا پینا ہے جن کا اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17433]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17433 in Urdu