السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3497. -- باب: ما جاء في الكسر بالماء
-- باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17436
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى الْبَزَّازُ، ثنا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، عَنِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ فِي يَوْمٍ قَائِظٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، فَاسْتَسْقَى رَهْطًا مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ:" هَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ شَرَابٌ فَيُرْسِلَ إِلَيْهِ؟" فَأَرْسَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ نَبِيذُ زَبِيبٍ، فَلَمَّا رَآهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ بِعُودٍ تُعْرَضُ عَلَيْهِ؟"، فَلَمَّا أَدْنَاهُ مِنْهُ وَجَدَ لَهُ رَائِحَةً شَدِيدَةً، فَقَطَبَ وَرَدَّ الْإِنَاءَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ يَكُنْ حَرَامًا لَمْ نَشْرَبْهُ، فَاسْتَعَادَ الْإِنَاءَ وَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ الرَّجُلُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَدَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَصَبَّهُ عَلَى الْإِنَاءِ وَقَالَ:" إِذَا اشْتَدَّ عَلَيْكُمْ شَرَابُهُ فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا".
(١٧٤٣٦) مطلب بن ابی وداعہسہمی فرماتیکہتے ہیں کہ ایک دن سخت گرمی میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ قریش کے لوگوں سے پینے کے لیے کچھ مانگا تو ایک آدمی نے اپنے گھر پیغام بھیجا تو ایک لونڈی منقیٰ کا نبیذ لے آئی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: کیا اس نے اس کے نشے کو نہ اتارا، چاہے عود کے ساتھ ہی جو اس پر ڈالا جاتا۔ جب اسے آپ کے قریب کیا تو آپ نے اس سے ناپسندیدہ بو پائی تو آپ کے چہرے سے ترش روئی محسوس ہوئی اور آپ نے وہ برتن واپس کردیا تو ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! اگر یہ حرام ہے تو ہم اسے نہیں پئیں گے۔ انھوں نے دوبارہ برتن آپ کی طرف کیا، آپ نے پھر ویسے ہی واپس کردیا اس شخص نے پھر وہی بات کہی تو پھر آپ نے زم زم کا پانی منگوایا اور اس میں شامل کردیا اور فرمایا: جب یہ سخت ہوجائے تو اس میں اس طرح پانی ملا دیا کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17436]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17436 in Urdu