السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3498. -- باب: الخليطين
-- باب: خلیطین (دو مختلف چیزوں مثلاً کھجور اور کشمش کو ملا کر مشروب بنانے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 17462
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا وَأَبُو بَكْرٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمَانَ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَخِيهِِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ امْرَأَةٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَنْتَبِذُوا التَّمْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا، انْبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَحْدَهُ" ⦗٥٣٤⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: نَهْيُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَلِيطَيْنِ يَحْتَمِلُ أَمْرَيْنِ: أَحَدُهُمَا أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا نَهَى عَنْهُ لِخَلْطِهِمَا سَوَاءً بَلَغَ حَدَّ الْإِسْكَارِ أَوْ لَمْ يَبْلُغْ، وَأَبَاحَ شُرْبَهُ إِذَا نُبِذَ عَلَى حِدَتِهِ، وَالْآخَرُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا نَهَى عَنْهُ؛ لِأَنَّهُ أَقْرَبُ إِلَى الِاشْتِدَادِ، وَإِذَا نُبِذَ عَلَى حِدَتِهِ كَانَ أَبْعَدَ عَنِ الِاشْتِدَادِ، فَمَا لَمْ يَبْلُغْ حَالَةَ الِاشْتِدَادِ فِي الْمَوْضِعَيْنِ جَمِيعًا لَا يَحْرُمُ وَعَلَى هَذَا الْمَعْنَى الثَّانِي يَدُلُّ مَا.
عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ایک عورت رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھجور اور منقی کو ملا کر نبیذ نہ بناؤ، دونوں کو الگ الگ بناؤ۔“
شیخ فرماتے ہیں کہ دونوں کو ملانے سے منع دو باتوں کا احتمال رکھتا ہے: ایک تو یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض ان دونوں کو ملانے کی وجہ سے منع فرمایا، خواہ وہ نشے کی حد تک پہنچے یا نہ پہنچے، اور الگ الگ نبیذ بنانے کی صورت میں اس کا پینا جائز قرار دیا، اور دوسرا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے منع فرمایا کہ دونوں کو ملانے سے اس میں سختی جلدی پیدا ہوتی ہے اور الگ الگ بنانے سے دیر سے، لہٰذا جب تک دونوں صورتوں میں سختی کی حالت تک نہ پہنچے حرام نہیں، اور اسی دوسرے معنی پر آگے آنے والی روایت دلالت کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17462]
شیخ فرماتے ہیں کہ دونوں کو ملانے سے منع دو باتوں کا احتمال رکھتا ہے: ایک تو یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض ان دونوں کو ملانے کی وجہ سے منع فرمایا، خواہ وہ نشے کی حد تک پہنچے یا نہ پہنچے، اور الگ الگ نبیذ بنانے کی صورت میں اس کا پینا جائز قرار دیا، اور دوسرا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے منع فرمایا کہ دونوں کو ملانے سے اس میں سختی جلدی پیدا ہوتی ہے اور الگ الگ بنانے سے دیر سے، لہٰذا جب تک دونوں صورتوں میں سختی کی حالت تک نہ پہنچے حرام نہیں، اور اسی دوسرے معنی پر آگے آنے والی روایت دلالت کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17462]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17462 in Urdu