🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
344. -- باب: آخر وقت العشاء وفيه قولان أحدهما ثلث الليل، والآخر نصفه فمن قال: بالأول احتج بما
-- باب: عشاء کے آخری وقت کا بیان، اور اس میں دو اقوال ہیں ایک تہائی رات اور دوسرا آدھی رات، پس جس نے پہلے قول کو اپنایا اس نے جس چیز سے استدلال کیا اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1751
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ فِي مَسْجِدِ الرَّصَافَةِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ثنا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ثنا شُعْبَةُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ:" اشْهَدْ مَعَنْا الصَّلَاةَ" فَأَمَرَ ⦗٥٥٠⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَذَّنَ بِغَلَسٍ فَصَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَشَاءِ حِينَ وَجَبَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْغَدِ فَنَوَّرَ بِالصُّبْحِ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ فَأَبْرَدَ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ لَمْ يُخَالِطْهَا صُفْرَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَاءِ عِنْدَ ذَهَابِ ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ بَعْضِهِ شَكَّ أَبُو رَوْحٍ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟ مَا بَيْنَ مَا رَأَيْتَ وَقْتٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، عَنْ حَرَمِيِّ بْنِ عُمَارَةَ أَبِي رَوْحٍ وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ قَالَ: فَأَقَامَ الْعِشَاءُ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ.
(الف) سلیمان بن بریدہ اپنے والد (بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے ساتھ نماز میں حاضر ہو“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اندھیرے میں اذان دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کا حکم دیا جس وقت سورج آسمان کے درمیان سے ڈھل گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کا حکم دیا جبکہ سورج بلند تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کا حکم دیا جس وقت سورج غروب ہو گیا، پھر عشاء کا حکم دیا جس وقت سرخی غائب ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے روز حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کو روشن کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کا حکم دیا، اس کو ٹھنڈا کیا، پھر عصر کا حکم دیا اور سورج سفید صاف تھا اس کے ساتھ زردی نہیں ملی تھی، پھر سرخی غائب ہونے سے پہلے مغرب کا حکم دیا، پھر ایک تہائی رات گزرنے کے وقت عشاء کا حکم دیا یا بعض رات گزرنے کے وقت۔ ابو روح کو شک ہوا ہے۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سائل کہاں ہے؟ جو تو نے دیکھا ہے اس کے درمیان نماز کا وقت ہے۔“
(ب) علقمہ بن مرثد سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی اقامت کہی جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1751]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1751 in Urdu