السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3511. -- باب: ما جاء في صفة السوط والضرب
-- باب: کوڑے کی صفت اور مارنے کی کیفیت کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17574
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَجُلًا، اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا، فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوْطٍ، فَأُتِيَ بِسَوْطٍ مَكْسُورٍ فَقَالَ:" فَوْقَ هَذَا" فَأُتِيَ بِسَوْطٍ جَدِيدٍ لَمْ تُقْطَعْ ثَمَرَتُهُ، فَقَالَ:" بَيْنَ هَذَيْنِ" فَأُتِيَ بِسَوْطٍ قَدْ رُكِّبَ بِهِ فُلَانٌ، فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ آنَ لَكُمْ أَنْ تَنْتَهُوَا عَنْ مَحَارِمِ اللهِ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ مِنْ هَذِهِ الْقَاذُورَةِ شَيْئًا فَلْيَسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللهِ، فَإِنَّه مَنْ يُبْدِ لَنَا صَفْحَتَهُ نُقِمْ عَلَيْهِ كِتَابَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْقَطِعٌ، لَيْسَ مِمَّا يَثْبُتُ بِهِ هُوَ نَفْسُهُ حُجَّةٌ، وَقَدْ رَأَيْتُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ عِنْدَنَا مَنْ يَعْرِفُهُ وَيَقُولُ بِهِ، فَنَحْنُ نَقُولُ بِهِ.
زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے زنا کیا اور اعتراف کر لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوڑا منگوایا۔ ایک ٹوٹا ہوا کوڑا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے اچھا لاؤ۔“ پھر ایک نیا کوڑا لایا گیا جس کا پھل بھی نہیں ٹوٹا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں سے درمیانہ لاؤ۔“ پھر وہ کوڑا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے حد لگائی اور فرمایا: ”اے لوگو! اب وقت آ گیا ہے کہ تم اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے باز آ جاؤ، جس سے کوئی ایسا کام ہو جائے تو وہ پردہ پوشی کرے، اگر (معاملہ) واضح ہو گیا تو ہم اس پر کتاب اللہ کے مطابق حد لگائیں گے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث منقطع ہے، ایسی نہیں جو بذاتِ خود حجت کے طور پر ثابت ہو، البتہ میں نے اپنے ہاں کے اہلِ علم میں سے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو اسے جانتے ہیں اور اس کے قائل ہیں، لہٰذا ہم بھی اس کے قائل ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17574]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث منقطع ہے، ایسی نہیں جو بذاتِ خود حجت کے طور پر ثابت ہو، البتہ میں نے اپنے ہاں کے اہلِ علم میں سے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو اسے جانتے ہیں اور اس کے قائل ہیں، لہٰذا ہم بھی اس کے قائل ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17574]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17574 in Urdu