🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3517. -- باب: ما جاء في الشفاعة بالحدود
-- باب: حدود کے معاملات میں سفارش کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17617
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَاشِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، أَنَّهُمْ جَلَسُوا لِابْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُهُ أَرَادَ الْجُلُوسَ مَعَنَا حَتَّى قُلْنَا: هَلُمَّ إِلَى الْمَجْلِسِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ تَذَمَّمَ، قَالَ: فَجَلَسَ فَسَكَتْنَا فَلَمْ يَتَكَلَّمْ مِنَّا أَحَدٌ، فَقَالَ: مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُونَ، أَلَا تَقُولُونَ: ⦗٥٧٧⦘ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ؟ فَإِنَّ الْوَاحِدَةَ بِعَشْرٍ، وَالْعَشْرَ بِمِائَةٍ، وَالْمِائَةَ بِأَلْفٍ، وَمَا زِدْتُمْ زَادَكُمُ اللهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حَدِّ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ ضَادَّ اللهَ فِي أَمْرِهِ، وَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَلَيْسَ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ وَلَكِنَّهَا الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ، وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللهِ حَتَّى يَنْزِعَ، وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي رَدْغَةِ خَبَالٍ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ".
یحییٰ بن راشد دمشقی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس آ کر بیٹھے۔ ہم خاموش تھے تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: خاموش کیوں ہو؟ بولتے کیوں نہیں! تم «سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ» ”اللہ اپنی تعریفوں کے ساتھ پاک ہے“ کیوں نہیں کہتے؟ یہ ایک دس کے، اور دس سو کے، اور سو ہزار کے برابر ہے اور جتنا زیادہ پڑھو گے اللہ زیادہ کرتے جائیں گے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”جس کی شفاعت حدود اللہ میں سے کسی حد کے آڑے آ گئی، اس نے اپنے معاملے میں اللہ سے ضد کی ہے اور جو مر گیا اور اس پر قرض ہے تو وہ دینار و درہم سے نہیں بلکہ نیکیوں اور برائیوں کی صورت میں ادا ہوگا اور جو کسی باطل کے لیے لڑتا ہے اور وہ جانتا بھی ہے تو وہ ہمیشہ اللہ کی ناراضگی میں رہتا ہے جب تک کہ اس سے پیچھے نہ ہٹ جائے اور جو کسی مومن کے لیے ناحق بات کہتا ہے تو اللہ اسے جہنم کے کیچڑ میں ڈالیں گے، یہاں تک کہ وہ نکل جائے جو اس نے کہا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17617]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17617 in Urdu