السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3519. -- باب: ما جاء في النهي عن التجسس
-- باب: تجسس (دوسروں کے عیب ٹٹولنے) کی ممانعت کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17625
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ حَرَسَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ⦗٥٧٩⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لَيْلَةً بِالْمَدِينَةِ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَمْشُونَ شَبَّ لَهُمْ سِرَاجٌ فِي بَيْتٍ، فَانْطَلَقُوا يَؤُمُّونَهُ حَتَّى إِذَا دَنَوْا مِنْهُ إِذَا بَابٌ مُجَافٌ عَلَى قَوْمٍ لَهُمْ فِيهِ أَصْوَاتٌ مُرْتَفِعَةٌ وَلَغَطٌ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: أَتَدْرِي بَيْتَ مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: هَذَا بَيْتُ رَبِيعَةَ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَهُمُ الْآنَ شُرَّبٌ، فَمَا تَرَى؟ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَرَى قَدْ أَتَيْنَا مَا نَهَى الله عَنْهُ: {وَلَا تَجَسَّسُوا} [الحجرات: ١٢] ، فَقَدْ تَجَسَّسْنَا، فَانْصَرَفَ عَنْهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَتَرَكَهُمْ.
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک رات میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ میں پہرہ دے رہا تھا تو ہم نے ایک گھر میں چراغ کی روشنی دیکھی، جب ہم گھر کے دروازے کے درمیان میں پہنچے تو ان کی آواز بلند اور خراب تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: جانتے ہو کس کا گھر ہے؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے فرمایا: ربیعہ بن امیہ بن خلف کا ہے، وہ اس وقت شراب پی رہے ہیں، آپ کی کیا رائے ہے، کیا کیا جائے؟ تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے اللہ کی منع کردہ چیز کا ارتکاب کیا ہے ﴿وَلَا تَجَسَّسُوا﴾ [سورة الحجرات: 12] ہم نے جاسوسی کی ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ واپس آگئے اور انہیں چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17625]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17625 in Urdu