السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3529. -- باب: الرجل يدخل دار غيره بغير إذنه
-- باب: اس شخص کا بیان جو کسی کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر داخل ہو جائے۔
حدیث نمبر: 17674
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَاشَانِيُّ الْمُزَكِّي: قَدِمَ عَلَيْنَا بَيْهَقٌ حَاجًّا، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَسْنَوَيْهِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا ⦗٥٩٢⦘ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ الْمَنْجَنِيقِيُّ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُونُسَ، ثنا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ السُّلَمِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" الدَّارُ حَرَمٌ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْكَ حَرَمَكَ فَاقْتُلْهُ" قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ السُّلَمِيُّ الْبَصْرِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَذْكُرُهُ عَنِ الْبُخَارِيِّ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ ضَعِيفٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَهُوَ إِنْ صَحَّ فَإِنَّمَا أَرَادَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، أَنَّهُ يَأْمُرُهُ بِالْخُرُوجِ، فَإِنْ لَمْ يَخْرُجْ فَلَهُ ضَرْبُهُ، وَإِنْ أَتَى الضَّرْبُ عَلَى نَفْسِهِ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھر حرم ہے، جو تیرے حرم میں داخل ہو اسے قتل کر دے۔“
ابو احمد (ابن عدی) کہتے ہیں: محمد بن کثیر سلمی بصری، یونس بن عبید سے روایت میں منکر الحدیث ہے، یہ بات انہوں نے امام بخاری سے نقل کی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ یہ یونس بن عبید سے ایک اور ضعیف سند سے بھی مروی ہے، اور اگر یہ صحیح ہو تو اس کا مطلب، واللہ اعلم، یہ ہے کہ اسے نکلنے کا کہے، اگر نہیں نکلتا تو اسے مارے، چاہے وہ اس مار سے مر جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17674]
ابو احمد (ابن عدی) کہتے ہیں: محمد بن کثیر سلمی بصری، یونس بن عبید سے روایت میں منکر الحدیث ہے، یہ بات انہوں نے امام بخاری سے نقل کی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ یہ یونس بن عبید سے ایک اور ضعیف سند سے بھی مروی ہے، اور اگر یہ صحیح ہو تو اس کا مطلب، واللہ اعلم، یہ ہے کہ اسے نکلنے کا کہے، اگر نہیں نکلتا تو اسے مارے، چاہے وہ اس مار سے مر جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17674]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17674 in Urdu