السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3534. -- باب: أخذ الولي بالولي
-- باب: ایک قرابت دار کو دوسرے قرابت دار کے بدلے پکڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17698
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، حَدَّثَنِي إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَبِي وَجَلَسْنَا سَاعَةً فَتَحَدَّثْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي:" ابْنُكَ هَذَا؟" قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ:" حَقًّا؟" قَالَ: أَشْهَدُ بِهِ، قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا مِنْ ثَبْتِ شَبَهِي بِأَبِي، وَمَنْ حَلِفِ أَبِي عَلَى ذَلِكَ، ⦗٥٩٩⦘ قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" أَمَا إِنَّ ابْنَكَ هَذَا لَا يَجْنِي عَلَيْكَ، وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ" قَالَ: وَقَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [النجم: ٣٨] إِلَى قَوْلِهِ: {هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَى} [النجم: ٥٦] .
سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ہم نے سلام کیا اور ہم بیٹھ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ تیرا بیٹا ہے؟“ میرے والد نے کہا: جی ہاں، ربِ کعبہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واقعی؟“ انہوں نے کہا: میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے کہ میں اپنے باپ سے مشابہت بھی رکھتا تھا اور وہ قسم بھی اٹھا رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے جرم کے بدلے تیرے بیٹے کو، یا تیرے بیٹے کے بدلے تجھے نہیں پکڑا جائے گا۔“ پھر یہ آیات پڑھیں: ﴿أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴾ [سورة النجم: 38] سے لے کر ﴿هَٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ﴾ [سورة النجم: 56] تک۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17698]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17698 in Urdu